اسلام آباد : وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک میں مردم شماری اگلے سال مارچ سے قبل کی جائے گی ۔ سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے ۔ موجودہ حکومت نے مردم شماری کے لئے تمام تیاریاں مکمل کی ہیں آئندہ انتخابات سے قبل ہی مردم شماری اور حلقہ بندیاں مکمل کر لی جائیں گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم کی جانب سے مردم شماری کے حوالے سے تحریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین نے کہاکہ اس وقت پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ مردم شماری ہے کئی بار تاریخیں دینے کے باوجود مردم شماری نہیں کرائی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری جس طریقے سے ہوئی اس طریقے سے دوبارہ مردم شماری کرائی جائے انہوں نے کہا کہ جب تک ہمیں آبادی کا صحیح علم نہ ہو اس وقت تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ مردم شماری پر بحث کرنے سے بہتر ہے کہ مردم شماری کے لئے تاریخ مقرر کی جائے ۔ جے یو آئی کی خاتون رکن نعیمہ کشور نے کہا کہ ملک میں مردم شماری ہونا بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی آبادی کا اندازہ نہ ہو اس وقت تک وسائل میں اضافہ ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک مردم شماری نہ ہو اس وقت تک حلقہ بندیاں نہ کی جائیں انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں فوج کی طرف دیکھنا ٹھیک نہیں ہے ۔مردم شماری نادرا بھی کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہی وقت میں مردم شماری ممکن نہ ہو تو اس کو مرحلہ وار یا صوبہ وار کیا جائے انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن سے قبل مردم شماری اور حلقہ بندیاں ضرور ہونی چاہئے ۔ رکن اسمبلی فنس عظیم نے کہا کہ مردم شماری معاشی ترقی اور استحکام کے لئے بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت اقلیتی برادری کی تعداد کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے وزارت اقلیتوں کے فنڈز بھی ختم کر رہی ہے ۔ رکن اسمبلی اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ مردم شماری بہت اہم مسئلہ ہے جس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ملک میں آبادی بڑھ رہی ہے یہ لمحہ فکریہ ہے حکومت اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات شروع کرنے چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر آبادی پر کنٹرول نہ پایا گیا تو امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ممکن نہ ہو گا یہ پوری قوم کا مسئلہ ہے رکن اسمبلی صاحبزادہ یعقوب نے کہا کہ مردم شماری کرانا ایک آئینی تقاضا ہے ملک کے وسائل اسی صورت میں منصفانہ انداز سے تقسیم ہوں گے جب مردم شماری ہو جائے رکن اسمبلی مزمل قریشی نے کہاکہ ملک میں مردم شماری بے حد ضروری ہے کیونکہ اس وقت ملک میں وسائل کی مساوی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے وفاق کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں رکن اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ ملک میں مردم شماری کرانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے اگر حکومت کو مردم شماری کے لئے فوج کی ضرورت میسر نہیں ہے تو اس کے لئے متبادل طریقہ کار اختیار کیا جائے ۔ تحریک پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ملک میں مردم شماری اگلے سال مارچ سے قبل ہی کرائی جائے گی انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کا مردم شماری پر اتفاق رائے ہے تاہم جب مردم شماری نزدیک آ جائے تو مختلف حلقوں کی جانب سے مخالفت کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی رائے تھی کہ مردم شماری کو شفاف بنانے کے لئے فوج کی خدمات لی جائیں تاہم ضرب عضب کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ الیکشن سے قبل ہی مردم شماری لازمی طور پر کرائی جائے گی ۔