اسلام آباد : جشن گلگت بلتستان کی دوروزہ ثقافتی تقریبات لوک ورثہ اسلام آباد میں شروع ہوگئے ثقافتی میلے سے لطف اندوز ہونے کے لیے گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر اضلاع سے لوگوں کی بڑی تعداد لوک ورثہ آئی ہوئی تھی۔ میلے کے موقع پر اسٹال لگے ہوئے تھے جس پر گلگت بلتستان کے ثقافتی کھانے، ثقافتی لباس، جیمز اسٹون، چپل، شال، ٹوپیاں اور دیگر ثقافتی چیزیں آویزاں کی گئی تھیں۔میلے کے موقع پر لوک فنکاروں کی جانب سے لوک موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس سے پروگرام میں آئے ہوئے مہمانوں کو محظوظ کررہے تھے اور ان کی دلچسپی میں بھی اضافہ کر رہے تھے ۔ گلگت سے آئے ہوئے لوگ ثقافتی لباس پہن رکھا تھا۔ لوک ورثہ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر فوزیہ سعید نے تمام اسٹال کا دورہ کیا اور گلگت سے آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اس موقع پر ان کا کہنا تھاہمارے اس پروگرام رکھنے کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے کہ گلگت بلتستان یکم نومبر1947کو آزاد ہوا تھا تاکہ انھیں ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملے۔ انھیں ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے کا موقع ملے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹورزم گلگت بلتستان کاشف علی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہمارے اسٹال؛ لگانے کا مقصد گلگت بلتستان کی ہینڈی کرافٹ، جیم اینڈ جیولری اور دیگر ثقافتی چیزوں کو مارکیٹ تک رسائی دینا ہے۔ ہم گزشتہ تین سال سے یہ ایونٹ منعقد کروارہے ہیں جسے منعقد کروانے میں لوک ورثہ کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگرامات سے ٹورزم کا فلو کافی بڑھ گیا ہے۔ اور ہم آئندہ بھی ایسی تقریبات کا انعقاد کریں گے۔ اتوار کو 3بجے گلگت بلتستان کا میوزیکل پروگرام ہوگا جس میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہمان خاص ہوں گے۔ اس موقع پر ٹیبلوز اور جشن آزادی کے حوالے سے ٹیبلوز بھی پیش کیے جائیں گے۔