کوئٹہ : میئرکوئٹہ ڈاکٹرکلیم اللہ کاکڑ نے ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ 21ماہ کے عرصے کے دوران بلیک میلنگ کابازار گرم ہے اصل بات کوئٹہ کی تبدیلی کا ترقی مخالف عناصر کو عزم نہ ہونا ہے ہم نے چھوٹے پیمانے پر جو تبدیلیاں کی اس کے مثبت نتائج لوگوں نے دیکھ لئے ہیں اسلئے انہیں پریشانی ہے ،میٹروپولٹین کارپوریشن کی جانب سے جاری منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے جاری کردہ بیان میں کیا ۔انہوں نے کہاکہ عوامی مسائل کے حل کیلئے وہ دن رات مصروف رہتے ہیں اس لئے وہ میڈیا کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے تاہم بعض اوقات ان سے متعلق لگائے گئے الزامات کے حوالے سے انہیں حقائق بیان کرنا پڑتے ہیں ،میں بارہا کہہ چکاہوں کہ کوئی کرپشن کروں گا نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیاجائیگا کوئٹہ شہر میں 9ارب روپے کی خطیر رقم سے بڑے ترقیاتی منصوبے پرکام شروع کیاجارہاہے جس سے کوئٹہ میں بڑی تبدیلی آئیگی اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی دلچسپی اور تعاون قابل تحسین ہے،ساتھ ہی سیکورٹی اداروں نے جس انداز سے اس سلسلے میں تعاون کیاہے وہ بھی احسن ہے ،انہوں نے کہاکہ صفائی کیلئے 75کروڑروپے کی مشینری منگوائی گئی ہے جو دسمبر میں پہنچنا شروع ہوجائے گی اس کے بعد لوگوں کو اس سلسلے میں مکمل تبدیلی محسوس ہوگی اس کے علاوہ کچرے کی ری پروسسنگ پلانٹ کو بھی فعال بنایاجارہاہے تاکہ کچرے کو کار�آمد بنایاجاسکے ،انہوں نے کہاکہ 38حلقوں میں صفائی کاکام پرائیویٹ فرمز کے ذریعے تیزی سے جاری ہے جلد ہی لوگوں کو صاف وشفاف کوئٹہ شہر دیکھنے کو ملے گا،کوئٹہ میں پانچ کروڑروپے کی لاگت سے ون ٹائم صفائی مہم مکمل کی جاچکی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 8کروڑروپے سے مزید صفائی کاکام ہوگا ،انہوں نے کہاکہ 27کروڑروپے کی لاگت سے ترقیاتی کام جاری ہے جبکہ 36کروڑ روپے کے منصوبوں کی ورک آرڈرز بھی ایک ہفتے میں جاری کردئیے جائیں گے ، ڈاکٹرکلیم اللہ کاکہناتھاکہ میٹروپولٹین کارپوریشن کی آمدپہلے 13کروڑرپے تھے جبکہ اب یہ 35کروڑروپے ہوچکی ہے ہم امید کررہے ہیں کہ بہت جلد اسے 80کروڑروپے تک پہنچایاجائیگا،انہوں نے کہاکہ میٹروپولٹین کارپوریشن کے کرایوں کو اپ ڈیٹ کرکے متعلقہ لوگوں کو نوٹسز جاری ہوچکے ہیں ہم 1945سے تحصیل ریکارڈ کو چیک کرکے گمشدہ 800املاک کاپتہ لگانے کی بھی کوشش کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر کی خوبصورتی کیلئے وزیراعلیٰ کے فراہم کردہ 12کروڑروپے میں سے 10کروڑروپے کے منصوبوں کے ٹینڈرز ہوچکے ہیں جبکہ پی ایس ڈی پی کی مد میں14کروڑروپے شہر کے پسماندہ ترین علاقوں کیلئے رکھے گئے ہیں جس کی سروے کاکام جا ری ہے اس کی بھی جلد ٹینڈر ہونگے اگر اس قدر ترقیاتی منصوبے کسی اور دور میں میٹروپولٹین کارپوریشن کے فلیٹ فارم سے ہوئے ہیں تو ہمیں بتایاجائے، انہو ں نے کہاکہ مٹن مارکیٹ ،کپڑا مارکیٹ اور ٹیکسی اسٹینڈ سمیت بلدیہ ہوٹل کی جگہ انڈرگراؤنڈ پارکنگ کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے جائینگے جس سے میٹر وپولٹین کے ریونیو میں اضافہ ہوگا انہوں نے کہاکہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی بنائی جارہی ہے جس میں مختلف محکموں سے ماہرین کو لیاجارہاہے کوئٹہ شہر میں اسلام آباد اور لاہور کی طرز پر ٹریفک کنٹرول بیورو بھی بنایاجارہاہے انہوں نے کہاکہ میٹروپولٹین کارپوریشن کا ڈھانچہ کوئٹہ کی پانچ لاکھ آبادی کیلئے بنایاگیاتھا لیکن اس وقت شہر میں 30لاکھ افراد رہائش پذیر ہے ہماری کوشش ہے کہ شہر کو وسعت دی جائے ،انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کو عارضی ملازمین پر اعتراض ہے انہیں ہم بتاناچاہتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے حصے میں ایک سے 2کروڑروپے تک آئے ہیں جبکہ ان کی رائے سے ان کے حلقوں میں عارضی ملازمین بھی تعینات کئے گئے ہیں۔