کوئٹہ : پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین جاوید سلیم قریشی پاک چین اکنامک کوریڈور پر تمام اکائیوں کا حق ہے مگر سب سے زیادہ اورپہلا حق بلوچستان کا ہے ،بلوچستان کے انجینئروں کو درپیش مسائل حل ہونے چاہئے ،حکومت ہماری 5منٹ کی ہڑتال برداشت نہیں کرسکے گی ،سی پیک سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے ،ہمیں اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنا چاہئے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتے کو آفیسرز کلب میں ینگ انجینئرز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے وائس چیئرمین پی ای سی قاضی رشید احمد ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء سابق ایم پی اے اختر حسین لانگو ،انجینئر امیر ضمیر احمد خان ،ینگ انجینئر زایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر نسیم اقبال ،اشرف علی شاہ ،رب نواز بلوچ اوردیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔چیئرمین پی ای سی جاوید سلیم قریشی کاکہناتھاکہ ملکی تعمیر وترقی میں انجینئرز کا انتہائی اہم کردار ہے ،جتنے بھی بڑے منصوبے چل رہے ہیں وہ انجینئرز کی مرہون منت ہے ،انجینئرز کو جو مقام ملنا چاہئے تھا وہ نہیں ملا جس پر افسوس ہی کیاجاسکتاہے ،ینگ انجینئرز نے کوئٹہ میں سیمینار کاانعقاد کرکے اچھااقدام کیاہے مگر سروس اسٹرکچر کااجراء اور دیگر مسائل کا حل ایک سیمینار سے نہیں نکلنے والا جب تک ملک سے ناانصافی کاخاتمہ کرکے میرٹ کی بالادستی یقینی نہیں بنائی جاتی اس وقت تک مسائل موجود رہیں گے ،انہوں نے کہاکہ سی پیک ایک انتہائی اہم اور بڑا منصوبہ ہے جس سے ملک بھر میں لوگوں نے امیدیں وابستہ کی ہیں ،سی پیک اور گوادر پورٹ کی فعالیت سے بلوچستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے ،حکومت کوچاہئے کہ وہ مقامی لوگوں کو روزگار کے زیادہ مواقع دیں ،انہوں نے کہاکہ سی پیک پر پاکستان کی تمام اکائیوں کاحق ہے مگر سب سے پہلا حق بلوچستان کا ہے اگر انجینئرز کام نہیں کرینگے تو تمام منصوبوں پر کام رک جائے گا حکومت ہماری 5منٹ کی ہڑتال بھی برداشت نہیں کرسکے گی اس لئے ضروری ہے کہ انجینئرز کو ہڑتال اور جلسے جلوس پر مجبور کرنے کی بجائے ان کے مسائل حل کئے جائیں ،انہوں نے ینگ انجینئرز کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتاہے ،پی ای سی ان کے مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار بھی اداکریگی ،انہوں نے کہاکہ سی پیک کے تحت جو غیرملکی کمپنیاں مختلف منصوبوں کے سلسلے میں آرہی ہے انہیں بتایاگیاہے کہ وہ پاکستانی انجینئرز کو بھی ملازمتیں دیں 2017سے انہیں پابند کیاجائے گا کہ وہ ملازمتوں میں 70فیصد کوٹہ پاکستانی انجینئرز کیلئے رکھیں ۔سیمینار میں ینگ انجینئرز ایسوسی ایشن کی جانب سے چیئرمین پی ای سی کو جو مطالبات پیش کئے گئے ان میں بے روز گار انجینئرز کیلئے روزگار کی فراہمی ،تمام انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹس میں سروس اسٹرکچر کی بحالی اور عملدرآمد ،محکمہ تعلیم میں کمپیوٹرانجینئرز کی آسامیوں کی تشہیر ،پروفیشنل الاؤنس اور نان پریکٹیکل الاؤنس کی فراہمی ،تمام انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹس کے سربراہان کا انتخاب انجینئرز سے کرنے سمیت دیگر مطالبات شامل تھے ۔