کوئٹہ : اسلم جان کرد نے ثابت قدم ہو کر بلوچ قومی جہد میں کردار ادا کرتے ہوئے قربانیوں سے دریغ نہیں کیا سی پیک پروجیکٹ سمیت حقیقی ترقی و خوشحالی کے مخالف ہیں نہ ہی مردم شماری کی مگر ہمارے خدشات و تحفظات کو دور کیا جائے یہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں غیر ملکیوں کو مردم شماری کا حصہ بنایا جائے بی این پی ترقی پسند روشن خیال سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ رواداری کے ساتھ تمام طبقہ فکر کی نمائندگی کی ہے مشرف آپریشن میں بے گھر ہونے والے بلوچوں کی دوبارہ آبادکاری کو یقینی بنایا جائے ان کی عدم موجودگی میں مردم شماری زیادتی ہوگی بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، میر عبدالرؤف مینگل ، سعید کرد ایڈووکیٹ ، حاجی محمد ابراہیم پرکانی ، میر اسماعیل بلوچ نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض گل خان نصیر کرد نے سر انجام دیئے ریفرنس کی صدارت میر اسلم جان کرد کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی تھے اس موقع پر پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبران اختر حسین لانگو ، غلام نبی مری ، یونس بلوچ ، آغا خالد شاہ دلسوز ، کامریڈ واحد مینگل ، ماما نصیر مینگل ، عبدالرحیم لہڑی ، شوکت بلوچ ، صدام لانگو ، اکبر کرد سمیت دیگر ساتھی بھی موجود تھے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر اسلم کرد بلوچستان کے عظیم بلوچ فرزند تھے جنہوں نے بلوچ قومی جدوجہد میں بڑی قربانیاں دیں اور پابند سلاسل رہے لیکن ان کی جہد میں کبھی بھی لرزش نہیں آئی ہر آمر و سول ڈکٹیٹروں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا ایسے عظیم فرزند صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں بابو عبدالرحمان کرد کے گھرانے کی قربانیاں روز روشن کی عیاں ہیں ان کی قربانیوں سے ہر بلوچ فرزند باعلم ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح گل خان نصیر ، میر محمود عزیز کرد اور بلوچستان کے دیگر اکابرین جنہوں نے بلوچ سرزمین کی بقاء اور قومی تحریک کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کیا اسی وجہ سے آج بلوچستان کی قومی جدوجہد مثبت انداز میں تقویت پا رہی ہے انہوں نے اسلم کرد کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ان جیسے رہنماؤں کا کردار ہمیشہ بلوچ قومی تحریک میں یاد رکھا جائے گا مقررین نے کہا کہ اسلم جان کرد نے تعلیم کے زیور سے طلباء کو آراستہ کیا انہوں نے حیدر آباد سازش کیس میں ٹارچرسیلوں میں اذیتیں برداشت کیں اور مصائب کا سامنا کیا بی این پی بلوچستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے جو بلوچستان بھر میں عوامی پذیرائی حاصل کر رہی ہے عوام بی این پی کو مسائل سے نجات دہندہ سیاسی جماعت گردانتے ہیں آج بلوچستان اور ملک بھر کے تمام طبقہ فکر بخوبی جانتے ہیں کہ پارٹی سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے مقررین نے کہا کہ سی پیک سمیت کسی بھی پروجیکٹ کے مخالف نہیں لیکن ہمارے خدشات و تحفظات کو دور کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے بلوچ سرزمین ہزاروں سالوں سے ہماری تاریخ تہذیب کا حصہ رہی ہے زمین کی حفاظت ہر باشعور شہری کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے روٹ کہیں سے بھی ہو ہمارے لئے ثانوی حیثیت رکھتا ہے جبکہ گوادر اور بلوچستان کے عوام کا جملہ مسئلہ گوادر پورٹ کے اختیار کا حصول ہے فوری طور پر قانون سازی کی جائے تاکہ بلوچستان کے عوام میگا پروجیکٹس سے اقلیت میں تبدیل نہ ہوں باہر سے آئے ہوئے لاکھوں کو ووٹ کا حق نہیں ملنا چاہئے گوادر کے بلوچوں کیلئے فوری طور پر ہنر مندی کے ٹیکنیکل ادارے قائم کئے جائیں جو وہاں کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ماہی گیری کے شعبے کیلئے متبادل جی ٹی بنایا جائے تاکہ ماہی گیری کا شعبہ جو زبوں حالی کا شکار ہے اس کی ترقی ممکن بنائی جا سکے گوادر کے غیر ماہی گیر جو ہزاروں سالوں سے اس شعبے سے وابستہ ہیں ان کے بنیادی مسائل حل کئے جائیں اسی طریقے سے جدید دانش گاہیں اور بنیادی انسانی ضروریات بلوچوں کو مہیا کی جائیں تمام چھوٹے اور بڑے پروجیکٹس میں پوسٹوں پر مقامی اور بلوچستانی عوام کو تعینات کیا جائے کیونکہ آئینی طور پر بھی بلوچستانی عوام کا حق بنتا ہے کہ انہیں زندگی کی تمام ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ مردم شماری جو مارچ میں متوقع ہے اس سے قبل مشرف آپریشن کے دوران لاکھوں خاندان جو کوہلو ، ڈیرہ بگٹی ، جھالاوان ، آواران ، مکران سمیت دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے جا چکے ہیں ان کی دوبارہ آباد کاری کی جائے ان کو نظر انداز کر کے مردم شماری کرانا استحصال کا سبب بنے گا 60فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری قابل قبول نہیں نہ ہی ملکی و بین الاقوامی اس بات کی اجازت دیتے ہیں مردم شماری ہمارے لئے موت و زیست کا مسئلہ ہے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ خدشات کو دور کر کے صاف شفاف مردم شماری کا انعقاد ممکن بنائیں اس سے قبل جتنے دفاع مردم شماری کی گئی اس میں بلوچوں کی آبادی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ بلوچ سرزمین وسیع و عریض اور آبادی پھیلی ہوئی ہے ماضی کے حکمرانوں اور بیورو کریسی کی ملی بھگت سے بلوچوں کے ساتھ پہلے ہی ناانصافیوں کی گئیں اب چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو مردم شماری کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو قابل قبول نہیں پنجاب اور خیبرپختونخواء سے مہاجرین کا انخلاء اور شناختی کارڈز منسوخ کئے گئے لیکن بلوچستان میں حکومتی سرپرستی میں ان کی آباد کاری کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انہیں مردم شماری کا حصہ بنایا جائے اس لئے پارٹی مردم شماری کو قبول نہیں کرے گی مقررین نے شہید گل زمین حبیب جالب بلوچ ، شہید نور الدین مینگل ، شہید اسلم کرد سمیت دیگر رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلنے کا تہیہ کیا –