کوئٹہ : بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں بلوچستان میں مذہبی فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کو تقویت دی جارہی ہے۔ کل کوئٹہ میں مطلوب حافظ سعید کا جلسہ عام اور سرکاری پروٹوکول اس کی ایک اور واضح ثبوت ہے۔ ممبئی جیسے کئی حملوں میں مطلوب شخص کو مزید اسٹیج فراہم اور تجدید کرنے کیلئے مختلف ناموں سے اِنہیں منظر عام پر لایا جارہا ہے۔ بلوچ ایک پرامن اور سیکولر قوم ہے، ہماری سرزمین پر صدیوں سے مختلف قوم اور مذاہب آزادانہ طور پر رہ کر اپنی ہر طرح کی رسوم و روایات میں آزاد رہے ہیں۔ بلوچستان پر جبری قبضے کے بعد پاکستان نے بلوچ تحریک کو کمزور کرنے کیلئے اپنے پالے ہوئے مختلف مذہبی انتہا پسندوں کو بلوچستان میں آباد کرکے برداشت اور روا داری کی فضاء کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی۔ جس میں ہزاروں ذکری، شیعہ، عیسائی اورہندوؤں کو سرکاری مشینری کے ذریعے قتل کیا گیا، جو اب بھی جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وقفہ بہ وقفہ حافظ سعید اور اُس جیسے کو کوئٹہ بلا کر بلوچستان کے لوگوں کے اذہان میں دہشت گردی اور عدم برداشت کی فضا پیدا کرنا ہے حال ہی میں پنجگور کے علاقے گچک میں داعش کے دو کیمپ قائم کئے گئے ہیں اور ساتھ ہی گچک میں ذکریوں کی عبادت گاہوں پر حملے بھی کرائے گئے ہیں۔ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں پر داعش کے جھنڈے نصب تھے اور چشم دید گواہوں نے انہیں فوجی کیمپ میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔ آواران جھاؤ اور پنجگور کچک میں داعش اور مسلح دفاع مذہبی واریت پھیلانے اور بلوچ آزادی پسندوں کو قتل کرنے میں ملوث ہیں۔ اس طرح عالمی دہشت گرد تنظیم اور افراد کو قابض نے بلوچستان میں سرگرم کیا ہے۔ اور بلوچ قوم ان کے خلاف نبرد آزما ہے۔ عالمی طاقتوں کو مزکورہ دہشت تنظیموں کے خلاف بلوچ قوم کی مدد کرنی چاہئے۔