|

وقتِ اشاعت :   January 10 – 2017

کوئٹہ : جعلی حکمران جعلی مردم شماری کرانا چاہتے ہیں صاف شفاف مردم شماری نہ ہوئی تو بلوچ ہی نہیں تمام اقوام متاثر ہونگے چالیس لاکھ افغان مہاجرین ہماری معیشت پر بوجھ ہیں بلوچستان کے غیور مقامی پشتون ‘ ہزارہ ‘ پنجابی سمیت دیگر اقوام بھی جعلی مردم شماری کی مخالفت کریں صاف شفاف مردم شماری کرائی جاتی تو کوئی بھی جماعت اس کی مخالفت نہ کرتی 10لاکھ زائد بلوچ اپنے گھروں سے بے گھر سندھ ‘ پنجاب میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں 60فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں گزشتہ روز ایم پی اے ہاسٹل میں پارٹی کے قائمقام صدر ملک عبدالولی کاکڑکی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ‘ مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ مرکزی فنانس سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی ‘ مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ‘ مرکزی کمیٹی کے ممبران غلام نبی مری ‘ سردار عمران بنگلزئی ‘ سید ناصر علی شاہ ہزارہ ‘قاسم پرکانی ‘ ذوہیب کرد ‘ دوست محمد بلوچ نے بھی شرکت کی اجلاس میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا اور موجودہ حالات میں مردم شماری کے حوالے سے کہا گیا کہ جعلی حکمران جعلی مردم شماری کرانا چاہتے ہیں بلوچستان کے تمام اقوام غیر شفاف مردم شماری کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں متحد ہو کر ہی بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے مردم شماری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا بشرط کہ وہ صاف شفاف بنیادوں پر ہوں 40لاکھ افغان مہاجرین جنہوں نے لاکھوں کی تعداد میں شناختی کارڈز بھی حاصل کر لئے ہیں انہی جعلی شناختی کارڈز اور افغان مہاجرین کی ووٹوں کی بدولت اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے والے مردم شماری میں افغان کو شمار کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے مقامی پشتون ‘ ہزارہ ‘ پنجابی برادری سمیت تمام متحد ہو کر غیر قانونی مردم شماری کیخلاف یک زبان ہو کر آواز بلند کریں بلوچستان کے غیور عوام 35 سالوں سے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر چکے ہیں آج بھی بلوچستان کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ کوئٹہ سمیت کون سے علاقے ہیں جہاں افغان مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں اور معیشت پر قبضہ کر چکے ہیں بلوچستان کے باشعور عوام کی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ اپنے آنے والی نسلوں کامستقبل محفوظ بنائیں مردم شماری میں افغان مہاجرین کو حصہ نہ بننے دیں اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے ہر طبقہ فکر کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یاسی و باشعور ہونے کا ثبوت فراہم کرے کیونکہ مردم شماری موت و ذیست کا مسئلہ ہے جب لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین معاشرے کا حصہ بن جائیں گے تو بہت سے مسائل جنم لیں گے –