|

وقتِ اشاعت :   April 2 – 2017

کوئٹہ : بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی رہنماء فضیلہ بلوچ ،گراناز ، ہانول بلوچ نے کہا کہ نوجوان اپنے حقوق کے حصول کے لئے متحد ہو کر تعلیمی اداروں میں فورسز کی تعیناتی، فیسوں میں من مانے اضافے اور طلباء کو درپیش مشکلات کے خلاف متحرک ہو اور ایسے نوجوانوں اور گروہوں سے دور رہے جو نوجوانوں کے مسائل کو لے کر مگر مچھ کے آنسو بہا کر مفادات حاصل کر نے کے بعد غائب ہو جا تے ہیں کیونکہ اب تک ہمارے 100 کے قریب ساتھی شہید جبکہ اتنے ہی کارکن اور لیڈران کئی سالوں سے لاپتہ ہے اور بی ایس او کے خلاف شدید ترین کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز طلباء کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی مذمت کر تے ہیں کیونکہ بی ایس او آزاد اگر چہ گزشتہ روز گرفتار ہونیوالے طلبا ء کے موقف اور طریقہ کار سے اختلاف ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ مطالبات کے لئے آواز اٹھانا جمہوری حق ہے اور ہم مطالبہ کر تے ہیں کہ گرفتار طلباء کو رہا کیا جائے بی ایس او آزاد بلوچ قومی حقوق اور طلباء کے حقوق اور ان کے مستقبل کے لئے جدوجہد کر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ ریاست بی ایس او آزاد کی جدوجہد کو کس نام یا نظریئے سے پکارتی ہے ہم ہر قسم کے تشدد اور جبر الزام تراشیوں کے باوجود اپنے پرامن جدوجہد سے دستبردار نہیں ہونگے کیونکہ ریاست بلوچ طلباء کے خلاف بلا تفریق کا رروائیوں میں مصروف ہے اس میں شناخت کر کے کا رروائی کی جا رہی ہے اس خاموش قتل عام سے نوجوانوں کو آگاہ کر نے کے لئے پرامن پروگرام کا سلسلہ شروع کیا ہے تعلیمی اداروں میں تعلیمی رجحان کو عام کرنے نوجوانوں کو ذاتی زندگیوں سے نکال کر انہیں قومی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے بی ایس او کو متحرک کردار ادا کر نا ہے اس سے ریاست بھی نالاں ہو گی اور شدید کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا اور اب تک تنظیم کے 100 کے قریب ذمہ داری شہید جبکہ اتنے ہی کارکن اور لیڈر کئی سالوں سے لاپتہ ہے انہوں نے کہا کہ ہماری تنظیم کے خلاف طاقت کی پالیسیاں قابل مذمت ہے ہم تعلیمی اداروں میں فورسز کے قیام کی مذمت کر تے ہیں بلوچستان کے طول وعرض میں بلوچ نوجوانوں کو تعلیمی سرگرمیوں سے دور رکھا جا رہا ہے جبکہ ڈاکٹر مالک کے دور میں تعلیمی ایمر جنسی کا اعلان کیا گیا اور بلوچستان کے نامور تعلیمی ادارے ڈیلٹا سینٹر کی بندش اور طلباء کی گرفتاری بھی ہوئی