|

وقتِ اشاعت :   May 25 – 2017

کوئٹہ: جامعہ بلوچستان کی طلباء تنظیموں نے کہا ہے کہ وائس چانسلر اورانتظامیہ ملکر ایچ ای سی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں انکی پالیسیاں صوبے میں تعلیم کو فروغ دینے کی بجائے مزید تباہی کی طرف لے جارہی ہیں جامعہ میں میرٹ کی کھلم کھلا پامالی کی جارہی ہے جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں گے ۔

یہ بات طلباء تنظیموں کے رہنماؤں منیر جالب ،ملک انعام کاکڑ،نذیر بلوچ،منظورحسین ،حمید بلوچ،انجم بلوچ ،ناصر بلوچ اور دیگر نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ طلباء تنظیمیں گزشتہ 15روز سے اپنے مطالبات کے حق میں سراپا احتجاج ہیں مگر مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جارہا حکومت کی جانب سے مطالبات کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹی بھی بنائی گئی مگر تاحال کمیٹی کوئی رپورٹ نہیں کرسکی جس پر ہمیں تشویش ہے ۔انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان میں عرصہ دراز سے میرٹ کی پامالی کا سلسلہ شروع ہے اور من پسند افراد کو نوکریاں دی جارہی ہیں وائس چانسلر اور انتظامیہ کی بنائی گئی پالیسیاں بلوچستان کے طلباء کیلئے زہرقاتل ہیں بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال پہلے سے ہی ناگفتہ بہ ہے لیکن اس طرح کی پالیسیاں تعلیم کو مزید تباہی کی دہانے پر لے جارہی ہیں ۔جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایچ اے سی کی جانب سے ملک بھر کی یونیورسٹیز کیلئے یکساں پالیسیاں مرتب کی ہیں مگر جامعہ بلوچستان میں وائس چانسلر اور انتظامیہ کی ملی بھگت سے تمام پالیسیوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے مگر ایچ اے سی کی جانب سے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ آئے روز جامعہ کی فیسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے مگر دوسری جانب طلباء و طالبات کو جو پہلے سہولیات فراہم کی جاتی تھیں اب بھاری بھر کم فیس وصول کرنے کے باوجود تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور اپنی کرپشن اور کمیشن میں مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جامعہ بلوچستان کی طلباء تنظیموں کے مطالبات کو فوری تسلیم کیا جائے بصورت دیگر طلباء سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔