|

وقتِ اشاعت :   September 11 – 2017

کوئٹہ :  جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کے تعلیم دشمن پالیسز کے خلاف طلباء تنظیموں کا آج 129روز بھی احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری رہا ۔

احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بی ایس او کے وائس چیئرمین خالد بلوچ اور انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ،بی ایس او پجار کے صوبائی سینئر نائب صدر کریم بلوچ،بی ایس او کے کوئٹہ کے صدر عاطف بلوچ ،ملک اقبال بلوچ ،پی ایس ایف کے انعام کاکڑاور ایچ ایس ایف کے رہنماء بھی موجود تھے ۔

مشترکہ طلباء تنظیموں کے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ جامعہ بلوچستان میں تعلیم کی بد ترین پسنتی کی باوجود محترم وائس چانسلر بد ترین ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی کمیٹی برائے تعلیمی مسائل بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے جامعہ بلوچستان میں تعلیم کی بہتری کیلئے بین الاقوامی سٹینڈرڈ کے مطابق قانون سازی کی گئی تھی جو مکمل جامعہ اورموجودہ صورتحال میں جامعہ بلوچستان کے نظم ونسق کے قانونی سقم کو بہت ہی ماہناز طریقے سے مرتب کیا گیا تھا ۔

مگر افسوس کے کئی عرصہ گزرجانے کے باوجود وائس چانسلر بلوچستان اسمبلی کے سفارشات کی منظور دے کر لاگو کرتے مگر ان کی مرتب کردہ مسودہ کو ردی کی ٹھوکری کی نظر کردی گئی۔

المیہ یہ ہے کہ وائس چانسلر صوبے کے قانون ساز ادارے کی تیار کردہ مسودہ کو لاگو کرنے سے قاصر ہے جس کی واضح اور صاف الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ وائس چانسلر صاحب جامعہ بلوچستان اپنی مرضی چاہتے ہے اور موصوف ان کوششوں میں ہے کہ ان کی من مانی کو کوئی بھی لگام نہ دیں ۔

محترم وائس چانسلر ابلاغ عامہ کے نمائندوں کو گمراہ کن بیان دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔موصوف نے فرمایا تھاکہ طلباء تنظیمیں محض پریشر گروپس ہیں تمام طلباء تنظیمی وائس چانسلر صاحب سے واضح الفاظ میں کہنا چاہتے ہے کہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز طلباء کیے حقیقی نمائندے ہوتے ہے طلباء کے حقیقی مسائل سے طلباء رہنمائی بہترانداز میں واقف ہوتے ہیں نہ ہی وہ بیروکریٹس طلباء کے حقیقی نمائندے ہوتے ہیں ۔

جو ائر کنڈیشن کے کمرے میں بیٹھ کر طلباء کے مسائل کو کیسے سمجھ سکتے ہیں ۔تمام طلباء کے تنظیموں کے عہدے داران وائس چانسلر فی الفور بلوچستان اسمبلی کی مرتب کردہ مسودے کو جامعہ بلوچستان کے آئین کا حصہ بنانے کیلئے فور ی منظوری دیں اور طلباء تنظیمون کے خلاف من گھڑت اورمبالغ آرئعی پر مبنی کردار پوشی کو بند کریں بصورت دیگر بلوچستان کے تمام اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنز سخت سے سخت احتجاج کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پر عائد ہونگے ۔