|

وقتِ اشاعت :   September 18 – 2017

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس ایف سمیت دیگر این جی اوز بلوچ علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس ایف این جی اوز کی جانب سے کیچی بیگ سینٹر کی بندش اور بلوچ ملازمین کو برطرف کر کے من پسند اور غیر بلوچوں کو تعینات کرنے اور اب غیر قانونی طریقے سے افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں تعیناتی قابل تشویش ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ سرزمین پر ملکی و غیر ملکی این جی اوز اپنے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں دیکھا جائے تو این جی اوز بلوچ علاقوں کو نظر انداز کر کے مخصوص علاقوں تک محدود ہیں ۔انہی علاقوں میں تمام ترقیاتی سرگرمیاں ، فنڈز اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کیچی بیگ سینٹر کی بندش اور دو مرتبہ ایم ایس ایف سے بلوچ نوجوانوں کو برطرف کرنے کی پالیسی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خود اپنے چارٹر کے منفی اقدامات کر رہے ہیں ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں ہمیشہ مثبت پالیسیوں کی حمایت کی ہے ایم ایس ایف سمیت تمام آرگنائزیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچ علاقوں اور نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کریں کیچی بیگ ، ڈیرہ مراد جمالی سمیت صحت سے متعلق دیگر پروجیکٹس کے لئے فنڈز مختص کریں اور یہاں پر سینٹرز کھولے جائیں کیونکہ بلوچ علاقے پہلے ہی بدحالی ، پسماندگی کا شکار ہیں عرصہ سے یہ دیکھا جا رہا ہے ۔

این جی اوز مسلسل روزگار سمیت دیگر اسکیمات میں بلوچوں کو نظر انداز کر رہے ہیں جو پروگرامز بنائے جاتے ہیں ان میں مکمل طور پر بلوچستان کے اکثریتی علاقوں کو نظر انداز کر رہے ہیں صرف محدود علاقوں تک فنڈز میں کرپشن ، اقرباء پروری اور لوٹ مار کی پالیسی جاری ہے ۔

بیان میں کہا ہے کہ نان گورنمنٹ آرگنائزیشنز کی پالیسی یہ ہونی چاہئے کہ وہ بلوچستان کے اکثریتی بلوچ اضلاع میں عوام کو مشکلات سے نکالنے اور غربت کے خاتمے کیلئے منصفانہ طور پر پالیسیاں ترتیب دیں کیچی بیگ ، جنرل ہسپتال اور دیگر پروجیکٹس جو ایم ایس ایف چلا رہے ہیں ۔

فوری طور پر بحال کئے جائیں سریاب جہاں شہر کی بڑی بلوچ آبادی ہے یہاں جو طبی سہولیات میسر تھیں کیچی بیگ اور جنرل ہسپتال میں پروجیکٹس کی بندش قابل افسوس ہے ۔

بیان میں کہا گیا ہے حکومت کے ارباب واختیار اس سے قبل بھی ایم ایس ایف سمیت تمام این جی اوز ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے تمام مقامی افراد کو روزگار فراہم کریں مگر ایسا نہیں ہوا کیونکہ مقامی بلوچوں کی جگہ افغان مہاجرین کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے غیر ملکی افراد کی جگہ بلوچستان کے مقامی بلوچوں کو تعینات کیا جائے ۔