|

وقتِ اشاعت :   September 23 – 2017

تربت : نیشنل پارٹی بلوچستان وحدت کے صدر سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی و سابق صوبائی وزیر کہدہ میر محمد اکرم دشتی، ضلعی صدر نیشنل پارٹی کیچ محمد جان دشتی، میر تربت میونسپل کارپوریشن قاضی غلام رسول بلوچ ، سابق ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان ناظم الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ مخالفین کے عوام دشمن دور میں پبلک سروس کمیشن کی آسامیاں جناح روڑ پر فروخت ہوا کرتی تھیں جس سے غریب کا بچہ قابلیت کے باوجود فیل ہواکرتا تھا مگر نیشنل پارٹی نے حکومت میں آتے ہی پبلک سروس کمیشن میں اصلاح کے عمل کا آغاز کرتے ہوئے کرپٹ چےئرمین کو سبکدوش کیا اور جسٹس کوہلی کی سربراہی میں ایک ایماندار ٹیم کو تعینات کی۔

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی مقررین نے کہا کہ آج غریب کا بچہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر مقابلے کا امتحان پاس کرتے ہوئے آفیسر تعینات ہورہا ہے جبکہ انکے سیاہ دور میں ایسا ہونا تو دور کی بات بلکہ ایسا سوچنا بھی ممکن نہ تھا، مخالفین اساتذہ کی بھرتی میں ہمارے میرٹ کے دعویٰ پر سوال اٹھاتے ہیں ہم انہیں کہناچاہتے ہیں کہ اگر اساتذہ کی تعیناتی میں میرٹ نہ ہوتا تو مخالفین کے گھروں سے تین تین چار چار لوگ ہرگز بھرتی نہ ہوتے۔

پندرہ سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ایک پرائمری اسکول تک قائم کرنے کی توفیق نہ کرنے والے آج کس منہ سے یونیورسٹی جیسے عظیم الشان تعلیمی ادارہ کے قیام کا کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، ذی شعور عوام اچھی طرح ادراک رکھتے ہیں کہ فروغِ تعلیم سے انکا کوسوں دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔

ان کے ایجنڈے اور مقاصد سے عوام اچھی طرح باخبر ہیں جو کہ عوامی فنڈز کو ہڑپ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، انہوں نے کہا کہ موصوف دعویٰ کرتا ہے کہ انہوں نے علامہ اقبال کی طرح خواب دیکھاپھر اسمبلی میں قرارداد پیش کی اور یونیورسٹی بن گئی، ان کا یہ دعویٰ سورج کی روشنی کو انگلی سے چھپاننے کی سعی لاحاصل کے سواء کچھ بھی نہیں کیونکہ عوام اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں کہ اس ملک میں اسمبلیوں کی قراردادں کو کیا حیثیت اور اہمیت حاصل ہے۔

یہاں پر ہر اسمبلی اجلاس میں درجن بھر قراردادیں پاس ہوتی ہیں مگر انکا پرسان حال کیا ہے عوام اچھی طرح باخبر ہیں، انہوں نے کہا کہ موصوف اپنے جس قرارداد کی بات کرتے ہیں اس میں لورالائی میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ بھی شامل تھا، اگر واقع ہی کیچ میں یونیورسٹی کا قیام انکی قرارداد کا نتیجہ ہے تو آج لورارلائی میں بھی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آچکا۔

انہوں نے کہا کہ آج اس آفاقی حقیقت اور سچائی کو جھٹلانا ممکن نہیں ہے کہ یونیورسٹی اور میڈیکل کالج نیشنل پارٹی کے قومی پالیسیوں اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی ذاتی دلچسپی، سرپرستی ، محنت اور لگن کا نتیجہ ہی ہے کیونکہ آج کے دور میں دو ڈھائی سال کے قلیل عرصہ میں ایک اسکول کی عمارت کا قیام بھی ممکن نہیں ہے جبکہ اس قلیل عرصہ کے اندر یونیورسٹی اور میڈیکل کالج جیسے عظیم ادارے کی عمارت کا قیام یقینی طور پر ڈاکٹر مالک کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی کی ہی مرہون منت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پندرہ سال تک صوبائی وزیر رہنے کے باوجود موصوف کو ایک لمحے کے لیے بھی اپنے گھر کے سامنے گٹر لائن کی تعمیر کا خیال نہ آیا، وہ بھی نیشنل پارٹی نے تعمیر کرکے علاقہ کے عوام کو پکی اور صاف سڑک کا تحفہ دیا، جبکہ آج یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کے قیام کا دعویٰ کرکے دراصل وہ اپنی ہی جگ ہنسائی کرانے کا موجب ثابت ہورہے ہیں۔

مقررین نے کہا کہ موصوف عوامی خدمت میں نہیں بلکہ جعل سازی ، کنبہ پرستی اور بدعنوانی میں نمبر ون پوزیشن ہولڈر ہیں ، موصوف ہرالیکشن میں نئی جعلی اسناد کیساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں، کبھی مدرسہ کی جعلی سند کیساتھ مفتی بن جاتے ہیں تو کبھی ایم بی اے کے جعلی سند کیساتھ تجارت کے ماہر انتظام کار بن جاتے ہیں ۔

انہی جعل سازیوں کی وجہ سے موصوف قانون کے شکنجے میں پھنس کر خود کو نااہل کروا بیٹھے اور اب وہ سوچ رہے ہیں کہ شاہی حکمران کی طرح وہ اپنے گھر کے کسی فرد کو الیکشن میں کھڑا کرکے عوام پر مسلط کریں ۔

جیسا علاقہ انکی جاگیر اور عوام انکی رعایا ہو، جس طرح موصوف نے سینٹ کی نشست اپنی جماعت کے دیگر قابل رہنماء4 کو دینے کے بجائے اپنے گھر میں مقید رکھتے ہوئے اپنے اسی شاہی ذہنیت کا ثبوت پہلے بھی دیا تھا ، مگر وہ بھول چکے ہیں کہ ہمارا عوام ذی شعور ہے اور وہ نصف صدی قبل قباہلی و شاہی زنجیروں کے قید سے آزادی حاصل کرچکی ہے، اب کی بار بھی باشعور عوام انکے شاہی سوچ کو ملیامیٹ کرینگے۔

مقررین نے کہا کہ موصوف کی نااہلی کے بعد انکی جماعت میں غفور احمد بزنجو، مراد جان گچکی، خان محمد جان اور قاضی نوراحمد سب سے زیادہ سنےئر ہیں انکا سیاسی و اخلاقی حق بنتا ہے کہ انہیں ٹکٹ دیا جائے نہ کہ موصوف کے گھر کے فرد کو، مقررین نے کہا کہ سینیٹ کی نشست اپنے گھر میں مقید رکھنے والے کنبہ پرست تاجر گزشتہ چھ سالوں کے سینیٹ کے ترقیاتی فنڈز جوکہ ایک ارب بیس کروڑ بنتے ہیں کا حساب دیں کہ انہوں نے یہ فنڈز کہاں خرچ کئے ہیں ۔

کیونکہ پورے کیچ میں ایک بھی فرد انکی سینیٹ فنڈز میں سے ایک روپے کے ترقیاتی اسکیم کی گواہی نہیں دے سکتا، مقررین نے کہا کہ یہ فنڈز حکومت نے انہیں عوام کے اجتماعی ترقی کے اسکیموں کے لیے دیے ہیں نہ کہ انکی ذاتی ترقی کے لیے۔

مقررین نے کہا کہ انہوں نے اقتدار میں آکر تربت کے تاریخی کجھور فیکٹری کی زمین پر قبضہ کیا اور جعل سازی کرتے ہوتے اسے اپنے نام انتقال کروایا جبکہ نیشنل پارٹی نے اقتدار میں آکر نہ صرف کھجور فیکٹری کے اس زمین کو ان سے واگزار کیا بلکہ جدید ساہنسی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک نیا کھجور فیکٹری بنا کر علاقے کی زراعت اور معیشیت کے لیے انقلابی قدم اٹھایا یہ ہمارے اور انکے سوچوں کے مابین بنیادی فرق ہے۔

مقرین نے کہا کہ مزکورہ کنبہ پرست تاجر اور انکا سماج دشمن ٹولہ قومی مفادات کے تحفظ اور اجتماعی تعمیر و ترقی کے سوچ و فکر سے عاری ہے یہی وجہ ہے کہ پندرہ سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے نہ ایک سڑک تعمیر کی، نہ ایک پراہمری اسکول قاہم کی، نہ کسی اسکول کی اپ گریڈیشن کی، نہ کسی کالج اور اسکول میں اضافی کمرے تعمیر کروائے، نہ کسی کالج اور اسکول میں امتحانی ہال، سائنسی لیبارٹری، لائبر یری تعمیر کروائی، نہ کسی کالج اور اسکول میں بس مہیا کروائی، نہ کسی محلے میں واٹر سپلائی اسکیم تعمیر کروائی، نہ کسی محلے میں سیوریج لائن تعمیر کروائی، نہ شہر میں بدامنی کے خاتمے کے لئے سنجیدگی اور ایمانداری کیساتھ کام کیا۔

بلکہ انکا دور ایک خونی دور تھا جس میں بدامنی، لوٹ مار، اقرباپروری، بدعنوانی اپنے عروج پر تھے جبکہ شہر عملاً کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا تھا، انہوں نے کہا کہ علاقہ اور عوام کے مفادات کے تحفظ اور تعمیر و ترقی کے لیے ایک قومی فکر اور وڑنری لیڈرشپ کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس سے موصوف اور انکا ٹولہ کوسوں دور ہیں۔

جبکہ نیشنل پارٹی کی لیڈر شپ انہی سیاسی افکار پر کاربند رہتے ہوئے جدوجہد کے میدان میں برسرپیکار ہے یہی وجہ ہے کہ سترہ سال کی اپوزیشن کے بعد جب نیشنل پارٹی کو حکومت ملی تو قلیل عرصہ کے اندر علاقہ میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہیں ہر کوئی دیکھ اور محسوس کرسکتا ہے۔

حکومت سنبھالتے ہی ائیرپورٹ چوک تا ڈی بلوچ تک کے خونی شاہراہ کو کشادہ کیا کہ جہاں پر ہر دوسرے روز خونی حادثہ ہواکرتے تھے، علاقے میں کوالٹی ایجوکیشن کے واحد ادارے بی آر سی جو کہ تباہی کے آخری دہانے تک پہنچ گیا تھا، کو سنبھالتے ہوئے اس میں اصلاحی عمل شروع کیا جسکا رزلٹ آج انتہائی مثبت ثابت ہوا ہے، زبوں حالی کے شکار بوائز اور گرلز کالجز میں بنیادی تبدیلیاں کیں گئیں۔

اضافی کلاس رومز، اسٹاف آفسز، گرلز ہاسٹل، امتحانی ہالز، آڈیٹوریمز، لائبر یری، سائنسی لیبارٹریز، اور بسوں کی سہولت مہیا کی گئی، انکے سیاہ دور میں بوائز اور گرلز کالجز میں ایک بھی بس نہ تھی جبکہ نیشنل پارٹی نے حکومت سنبھالتے ہی بوائز اور گرلز کالجز میں پانچ چھ بسیں مہیا کیں جس سے نہ صرف شہر کے اندر بلکہ شہر سے باہر سامی سے لیکر کلاتک تک طلباء کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت میسر آرہی ہے، قلیل عرصہ میں شہر کے اندر بدامنی کا خاتمہ کیا گیا۔

تیس سے زاہد اسکولز کی اپ گریڈیشن کی گئی،جبکہ چالیس کے قریب نئے اسکول کھولے گئے ، سترہ سال کے بعد اسکولز کو فرنیچرز سپلاء کی گئی،تمام اسکولز خاص طور پر ہائی اسکولز میں اضافی کلاس رومز، امتحانی ہالز سمیت مختلف نوعیت کے ترقیاتی کام روبہ عمل ہیں اور ایسا کوئی اسکول نہیں بچا ہے جہاں پر کسی نہ کسی شکل میں ترقیاتی کام نہیں ہوا ہے۔

ماڈل سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر کے اندر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کشادہ اور اعلٰی کوالٹی کی سڑکیں، سیوریج لائن اور ڈرینج تعمیرات جاری ہیں، جوسک اور آس پاس میں فلڈ سیفٹی وال تعمیر کی گئی، سید احسان شاہ کے زیر قبضہ تاریخی کھجور فیکٹری کی زمین کو ان سے واگزار کرتے ہوئے جدید سائنسی نوعیت کی ایک نئی کھجور فیکٹری قائم کی گئی، ایلیمنٹری کالج، میڈیکل کالج اور یونیورسٹی جیسے عظیم الشان اداروں کے قیام کا شرف حاصل ہے۔

مختلف تعلیمی اداروں میں سولہ بیسں مہیا کی گئی، مختلف ہیلتھ یونٹس میں آدھا درجن ایمبولینس فراہم کی گئیں، دس سالوں سے نامکمل پڑی ہوئی تربت گوادر شاہراہ کا کام دوبارہ شروع کرواتے ہوئے مکمل کروایا،پیکج ملازمین اور ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرواکر انکے مستقبل کو محفوظ بنایا۔

این ٹی ایس کے تحت میرٹ کی بنیاد پر ضلع بھر میں پانچ سو اساتذہ بھرتی کئے گئے ، ضلع بھر میں تین ہزار سے زاہد بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرکے انکے مستقبل کو تابناک بنایا،پچاس سے زاہد واٹر سپلاء اسکمیں تعمیر کی گئیں ، دس سالوں سے دربدر سیلاب متاثرین کو سری کہن سات مرلہ اسکیم میں زمینیں دیکر باعزت زندگیاں شروع کرنے کا موقع فراہم کیا، دس سال بعد میرانی ڈیم متاثرین کے لئے پونے چار ارب روپے معاوضہ جات کی مد میں منظور کروائی۔

میرانی ہاوسنگ اسکیم کے نام پر سرکاری ہاوسنگ اسکیم لانچ کرتے ہوئے بے گھر اور غریب لوگوں کو سستے داموں پلاٹس حاصل کرنے کا موقع دیا واضع رہے کہ شہر کے سابقہ دو سرکاری ہاوسنگ اسکیمز سیٹلائٹ ٹاون اور اورسیز ہاوسنگ اسکیمز بھی نیشنل پارٹی کی لیڈر شپ نے ہی اسی کی دہائی کے آخر میں اپنی حکومت میں لانچ کروائی تھیں،