|

وقتِ اشاعت :   September 24 – 2017

کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکمرانوں نے لوٹ مار کی انتہاء کر دی ہے صحت ‘ تعلیم سمیت دیگر محکموں کی زبوں حالی اور عوام کے معاشی مسائل میں اضافہ حکومتی ناکام و نااہلی ہے ۔

جنہوں نے اقتدار حکمرانوں کو سونپا اور سلیکشن کے ذریعے 2013ء میں عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارا انہوں نے اقتدار ایسے حکمرانوں کے حوالے کیا جنہوں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی بلوچستان جو وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بلوچ علاقے پسماندہ و زبوں حالی کا شکار ہے عوام نان شبینہ کے محتاج بن چکے ہیں لیکن حکمران لوٹ مار کو ترجیح دے کر کرپشن کے ریکارڈ توڑنے میں مصروف ہیں ۔

بلوچستان کئی دہائیوں سے استحصالی سوچ کے باعث ناانصافیوں کا شکار ہے رہی سہی کسر نام نہاد جمہوریت و قوم پرستی کے دعویداروں نے پوری کر دی ہے بلوچ اور بلوچستان کے عوام باشعور ہو کر ایسے لوگوں کا احتساب مستقبل میں کریں تاکہ ایسے لوگ اقتدار تک رسائی حاصل نہ کر سکیں جو ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں بلوچ باشعور قوم ہے موقع پرستوں ‘ مفاد پرستوں کو بخوبی جانتے ہیں حکمرانوں کی نااہلیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 35ہزار سے زائد آسامیوں خالی ہونے کے باوجود چار سال میں انہوں نے چند محکموں میں سینکڑوں افراد کو بھی بھرتی نہ کر سکے ۔

صرف سیاسی جیالوں کو ترجیح دی گئی واسا میں تو ایسی تعناتیاں کی گئیں جس میں قانونی تقاضے پورے کئے گئے اور میرٹ کو مد نظر رکھا گیا ہزاروں آسامیاں ہونے کے باوجود بلوچوں کو نظر انداز کرنا لمحہ فکریہ ہے آج دانستہ طور پر بلوچوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے بلوچ وطن کے ساحل وسائل سے چلنے والے محکموں میں بلوچ نوجوان ہر شعبے میں نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔

پارٹی بلوچستانیوں کے حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کر رہی ہے آج میرٹ کو نظر انداز کر کے سیاسی بنیادوں پر محکمے چلائے جا رہے ہیں جو کسی صورت درست اقدام نہیں حکمران ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے نفرت بڑھیں –