|

وقتِ اشاعت :   September 26 – 2017

کو ئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود بلوچ علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے چند لوگ جنہوں نے بل جمع نہیں کئے تو پورا فیڈر بند کر کے تمام صارفین کو سزا دی جا رہی ہے جو مناسب اقدام نہیں حالانکہ خیبرپختونخواء ، پنجاب ، سندھ کے صارفین بلوچستانی عوام کے مقابلے میں کئی سو فیصد زائدکے مقروض ہیں وہاں اتنی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی ہے ۔

بلوچستان کے عوام کے ساتھ استحصالانہ پالیسی جاری ہے بلوچستان کے اکثریتی عوام کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے یہ شعبہ تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے اب طویل لوڈشیڈنگ کر کے عوام کو ذہنی کوفت دی جا رہی ہے مرکزی حکومت اور واپڈا کے ارباب و اختیار کی پالیسیاں ناانصافیوں پر مبنی ہے مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں ایسی روش ترک کرے تاکہ عوام کو پانی تو میسر ہیں ۔

پارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کے جملہ مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کی ہے اس حوالے سے ہماری جدوجہد رہی ہے کہ عوام کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں حکمرانوں نے بلوچستان کے عوام کو مختلف قسم کے سماجی مسائل سے دوچار کر دیا ہے مرکزی حکومت اور اسلام آباد کے ارباب و اختیار نے دیگر صوبوں میں جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے اس کے برعکس پالیسیاں بلوچستان پر لاگو کی گئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر کے فیڈرز بند کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور جو مقروض ہے ان کے کنکشن منقطع کئے جائیں وفاقی وزیر گیس کے مد میں بلوچستان کے اربوں کی مقروض ہے جو وفاقی ادا کرنے سے قاصر ہے ۔

بلوچستان میں پہلے ہی تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہے زراعت بھی تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے عوام بے روزگاری ، غربت کا شکار ہیں حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کر رہی فوری طور پر عوام کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے ۔