|

وقتِ اشاعت :   September 28 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن و جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے بلوچستان اسمبلی کے منتخب نمائندوں نے اعتماد میں لئے بغیر وفاقی حکومت اور چائنا کمپنی کے درمیان سیندک پروجیکٹ کے 5 سالہ معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت براہ راست صوبہ کے معاملات میں 18ویں ترمیم کے باوجود بھی مداخلت کررہی ہے جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دیں گے ۔

موجودہ صوبائی حکومت وفاق کے سامنے اپنے حقوق کے لئے بھی اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے صوبہ کے حقوق حاصل کرنے کے لئے نواب اسلم رئیسانی جیسی حکومت ہونی چاہئے جنہوں نے ریکوڈک کو بچایا مگر اپنی حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد بلوچستان کے ذخائر صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہئے مگر بدقسمتی سے صوبائی حکومت کمزور ہے اور وہ وفاقی حکومت کے سامنے اپنے وسائل سے متعلق بات نہیں کرسکتی کیونکہ اگر وہ وفاقی حکومت کے سامنے صوبہ کے حقوق و وسائل پر ڈٹ جائیں گے تو ان کی حکومت ختم ہو جائے گی ۔

اس لئے وہ اپنی حکومت کو ختم کرنے کے بجائے چپ کا روزہ رکھا ہے سابقہ دور میں نواب اسلم رئیسانی نے پیپلزپارٹی کی حکومت کے سامنے ریکوڈک کے معاملے پر صاف انکار کر دیا اور ایوان صدر سے نکل کر بائیکاٹ بھی کیا اس کے بعد جس طرح ہمارے دور حکومت کو ختم کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے ہم نے ریکوڈک کو بچا لیا مگر اپنی حکومت کی قربانی دے دی ۔

موجودہ حکومت سی پیک اور سیندک پروجیکٹ کے منصوبہ کے بعد دیگر منصوبوں پر بھی خاموش رہیں گے جمعیت علماء اسلام اور اپوزیشن وفاقی حکومت اور چائنیز کمپنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہیں جب کوئی حکومت اپنے سائل و وسائل کا دفاع نہیں کرسکتے تو ان کو حکومت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔

چائنیز کمپنی کو چاہئے کہ وہ بلوچستان کے نمائندوں کے ساتھ معاہدہ کرتا کیونکہ ہمارے مانیٹرنگ سسٹم کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ وہاں پرہمارا کوئی نمائندہ ہے کہ وہ تعین کرے کہ چائنا حکومت کتنا سونا چاندی اور تانبا لے جاتا ہے اور ہمارا شیئر کتنا ہے ۔