کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے وفاقی حکومت اور چائینز کمپنی کی سیندک پروجیکٹ کے حوالے سے معاہدے کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی حقوق پر سودا بازی کسی بھی صورت نہیں ہونے د ینگے اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی کرنے والوں کا بلوچستان میں ماضی بھی کردار ٹھیک نہیں تھا اور اب بھی بلوچستان کے وسائل کو لوٹ کھسوٹ رہے ہیں جس کی اجازت نہیں دینگے اسمبلی فلور پر اس پر بھر پور احتجاج کیا جائیگا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’ آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے اتحادی جماعتوں نے طویل جدوجہد کے بعد اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیئے مگر اس کے باوجود حکمران اور پنجاب کی بیورو کریسی اٹھارویں ترمیم کی آئین کیساتھ مذاق کر کے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خاص کر بلوچستان کے ساحل ووسائل کو حکمران اپنی مال سمجھ کر ہڑپ رہے ہیں جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے اور اس کا حساب ضرور لیا جائیگا ۔
انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے جس طرح وفاقی کا بینہ میں بلوچستان کے عوام اور ان کے منتخب کر دہ اسمبلی کو بائی پاس کر کے سیندک پروجیکٹ کے منصوبے پر چائینز کمپنی کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس معاہدے کو ہم یکسر مسترد کر تے ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ محکوم اقوام کی حقوق اور ان کے ساحل ووسائل کیلئے طویل جنگ لڑی ہے اور اب بھی جنگ لڑیں گے کیونکہ جب تک صوبے مضبوط نہیں ہونگے وفاق کبھی بھی مضبوط نہیں ہو گا اگر وفاق کا یہی رویہ رہا تو ہم پارٹی کے قیادت سے رابط کر کے بھر پور احتجاج کرینگے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ سیندک پروجیکٹ پر حکمرانوں نے پہلے بھی کرپشن وکمیشن کا فائدہ اٹھایا اور ایک بار پھر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اٹھارویں ترمیم کو کسی بھی صورت فعال نہیں ہونے دینگے اور بلوچستان اسمبلی کے فلور پر اس حوالے سے بھر پور احتجاج کیا جائیگا ۔
ساحل ووسائل پر حق یہاں کے عوام کا ہے موجودہ حکمرانوں نے ماضی میں بھی بلوچ، پشتون اور دیگر محکوم اقوام کی حقوق ووسائل غضب کئے ہیں اور اب ایک بار پھر غضب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دینگے۔
سیندک معاہدے کو مکمل مسترد کرتے ہیں، اے این پی
![]()
وقتِ اشاعت : September 29 – 2017