کوئٹہ : بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز اورمحکمہ تعلیم کے آفیسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے اجلاس بلا کر صوبے کے دور دراز علاقوں کے کالجز اور سکولز کے اچانک دورے کرے اور وہاں غیر حاضر رہنے والے کالج اور سکول اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں ۔
گزشتہ روز سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عبدالطیف کاکڑ نے ایک رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں کہا گیا تھاکہ غیر حاضر اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ صورتحال میں بہتری آئی ہے اور اساتذہ کی کثیر تعداد اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ کالج اور سکولوں کے جو اساتذہ فرائض میں غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاہم درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے اختلاف کیا۔
انہوں نے کہاکہ وہ خود گورنمنٹ گرلز مڈل سکول پشین گئے اور دیکھا کہ وہاں صرف ایک استانی حاضر تھی ڈپٹی سیکرٹری (جوڈیشل )ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سکولز /کالجز ہارون رشید نے سماعت کے دوران بتایاکہ حکومت نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز ،سکولوں اور کالجز کی مانیٹرنگ کیلئے تشکیل دئیے ہیں ۔
جس میں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ تعلیم کے آفیسران شامل ہیں ،انہوں نے کہاکہ درخواست گزار کی شکایت کو متعلقہ حکام تک بھیجاجائیگا جو سکولوں اور کالجز کاوزٹ کرینگے اور سکولز وکالجز کے ان اساتذہ کے خلاف ایکشن لیں گے جو غیر حاضر پائے جائینگے ۔
انہوں نے کہاکہ صوبے بھر کے میل اور فی میل کالجز اور سکولوں پر نظر رکھی جارہی ہے عدالت کے ججز نے ریمارکس دئیے کہ صوبے بھر کے میل اور فی میل سکولوں اور کالجز میں کچھ اساتذہ مستقل اور دیگر اکثر غیرحاضر پائے جاتے ہیں ۔
حکومت دور دراز علاقوں کے سکولز اور کالجز میں غیر حاضر اساتذہ کی حاضری کو ممکن بنانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں دیکھاگیاہے کہ دور دراز علاقوں میں واقع سکولز اور کالجز کی مانیٹرنگ صحیح طور پر نہیں کی جاتی اور نا ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ابھی تک مکمل طور پر فعال ہیں ۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کے فوری اجلاس بلائے جائیں جس میں ڈپٹی کمشنر زخود یا اے ڈی سی اور اے سی ،محکمہ تعلیم کے آفیسران کے ساتھ شرکت کرے اور سکولوں اور کالجز کے اچانک دورے کرتے ہوئے غیر حاضر اساتذہ کیخلاف ایکشن لیں ۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو اگلی سماعت پر ڈپٹی کمشنرزکی جانب سے عدالت میں رپورٹس جمع کرنے کی بھی ہدایت کی بعدازاں سماعت کو نومبر کے دوسرے ہفتے تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے حکم کی کافی سیکرٹری تعلیم ،سکولز وکالجز اور سیکنڈری ہائیر ایجوکیشن اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی ۔
بلوچستان ہائیکورٹ کا غیر حاضر سکول و کالجز اساتذہ کیخلاف کارروائی کی ہدایت
![]()
وقتِ اشاعت : September 30 – 2017