کوئٹہ : بلوچستان پیس فورم اور کتاب دوست بلوچستان تحریک کے سربراہ نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرکے صوبہ اور قوم کو درپیش بحرانوں اور مسائل سے نجات دلائی جاسکتی ہے کتب بینی سے دوری کی وجہ سے نوجوان نسل اپنے اصل مقاصد سے ہٹ رہی ہے ہمیں انہیں واپس لانے کے لئے اقدامات اٹھانے کیساتھ ساتھ ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے علاوہ اساتذہ میڈیا کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب (کتاب دوست بلوچستان تحریک) کے زیراہتمام یونیورسٹی آف تربت کو 3 ہزار کتب کا تحفہ دینے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس موقع پر یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرعبدالرزاق صابر ‘ کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
تقریب میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ موسیٰ جان بلوچ ‘ غلام نبی مری ‘ ملک نصیر احمد شاہوانی ‘ میجر نذر حسین زمرد ‘ ڈاکٹرناشناس لہڑی ‘ عبداللہ بلوچ ‘ طارق رئیسانی سمیت دیگر بھی موجود تھے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ آج ملک اور قوم کو جو بحران اور چیلنجز درپیش ہیں اس کی بڑی وجہ کتب بینی سے دوری ہے کیونکہ زندہ قومیں درس و تدریس کے علاوہ کتب بینی کے ذریعے اپنی قوم اور ملک کو درپیش مسائل چیلنجز اور بحرانوں سے نکالنے میں ہمیشہ کامیاب رہتی ہیں ۔
آج کے جدید دور جہاں تمام سہولیات دستیاب ہیں وہاں پر کتب بینی سے نوجوان نسل کی دوری کسی المیہ سے کم نہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے نوجوان نسل کو کتب بینی سے دوری کو محسوس کرتے ہوئے بلوچستان پیس فورم کے پلیٹ فارم سے کتاب دوست بلوچستان تحریک کا آغاز کیا جس کے تحت پاکستان سمیت دنیا بھر سے کتابیں اکٹھی کرکے مختلف تعلیمی اداروں کو کتابیں فراہم کی ہیں جس کا مقصد ان کتب کو نوجوانوں تک فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ان سے استعفاہ حاصل کر سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنی ذاتی لائبریری اور اپنے گودام سے الحجرہ کالج زیارت کو 2 ہزار کتابوں کا تحفہ دیا جس کا مقصد تھا کہ ہمارے بچے ان کتابوں سے استعفادہ حاصل کر سکیں اس کے بعد آئی ٹی یونیورسٹی میں تقریبا 10 ہزار مختلف علاقوں کوہلو ‘ کوئٹہ سمیت دیگر سکولوں میں تقریبا 12 ہزار کتابیں فروخت کی ہیں ہم نے مختلف علاقوں سے کتابیں اکٹھی کرکے صوبوں کے طول و عرض اکٹھی کرکے صوبہ میں دی ہیں صوبہ سندھ ‘ کے پی کے اور دیگر علاقوں سے بھی کتابیں ہمارے دوست فراہم کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کو بحران سے نکالنے کے نوجوان نسل کو کتب بینی کی جانب راغب کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اس لئے ہم نے تربت یونیورسٹی کو 3 ہزار کتابوں کا تحفہ دے رہے ہیں اسی طرح خضدار یونیورسٹی کو بھی کتابوں کا تحفہ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بگڑے ہوئے سماج کو سنوارنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور نوجوان نسل کو کتب بینی کی جانب لیکر آئیں جس سے وہ دور ہیں انہوں نے کہا کہ افراتفری بحرانوں اور وسائل کا واحد حل کتب بینی ہے اس موقع پر جامعہ تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری سے 3 ہزار کتابوں کا تحفہ دیکر نوجوان نسل کے مستقبل کو سنوارنے میں جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھی کاوش ہے سب سے پہلے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کو کتابوں کا تحفہ دیا تھا اور آج ہمیں بھی کتابوں کا تحفہ دیا ہے جس سے صوبے کے نوجوان تربت یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ان کتب سے مستفید ہونگے ۔
کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضا الرحمان نے کہا کہ میڈیا نے ہمیشہ معاشرے کی بہتری ملک اور قوم کو درپیش مسائل اور بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے معاشرتی برائیوں کے خاتمہ میں میڈیا سمیت ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی جانب سے کتب بینی کے حوالے سے جو پروگرام شروع کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے جس سے بلوچستان کے نوجوانوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے میں مدد ملے گی ۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کوئٹہ پریس کلب سے جو بھی تعاون ہو سکا وہ کیا جائے گا تقریب سے اختتام پر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے وائس چانسلر تربت یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو 3 ہزار کتابوں کا تحفہ دیا
کتب بینی سے نوجوان نسل کی دوری کسی المیہ سے کم نہیں ، لشکری رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : October 1 – 2017