|

وقتِ اشاعت :   November 21 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے تربت میں سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن میں کالعدم تنظیم کے دو ملزمان ہلاک کردیئے۔فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

سیکورٹی حکام کے مطابق آپریشن تربت کے علاقے دشت میں کالعدم تنظیم کے ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر کیاگیا جس میں ایف سی اور حساس اداروں کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ آپریشن کے دوران اہلکاروں اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو ملزمان مارے گئے۔ 

ہلاک ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے جن کے قبضے سے دو کلاشنکوف، دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد کیاگیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کا ایک اہلکار ناصر محمود جبکہ دو اہلکار زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیاگیا۔

سیکورٹی حکام کے مطابق ہلاک ملزمان د سیکورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے سیکورٹی فورسز کی جانب سے تربت میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب سرچ آپریشن میں دو دہشت گردوں کی ہلاکت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

جبکہ وزیراعلیٰ نے آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک ایف سی اہلکار کی شہادت اور دو اہلکاروں کے زخمی ہونے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کامیاب کاروائی کے دوران شر پسند عناصر کی جانب سے یرغمال بنائے گئے 18 افراد کی باحفاظت بازیابی پر بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور بے گناہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والوں کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ انہوں نے سیکورٹی اداروں کو دہشت گردوں کا ہر جگہ پیچھا کرنے اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ انہیں کہیں چھپنے کی جگہ اور دہشت گردی کی کاروائی کرنے کا موقع نہ ملے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا لائحہ عمل تبدیل کرنے کے مطلوبہ نتائج سامنے آئیں گے اور جلد دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا، وزیراعلیٰ نے شہید اہلکار کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے درجات کی بلندی اور زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔