کوئٹہ: سانحہ تربت کے خلاف مزدوروں تنظیموں نے کوئٹہ میں احتجاج کیا اور واقعہ کے خلاف تربت اور گوادر سڑکیں بلاک کر نے کا اعلان کیاہے۔
پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے تحت چمن پھاٹک سے ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی اور مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔
اس موقع پر مظاہرین نے تربت میں مزدوروں کے قتل سمیت دیگر مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔
مظاہرے سے پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان ریجن کے چیئرمین محمد حسن بلوچ، صوبائی جنرل سیکرٹری علی بخش جمالی، نائب صدر سید کریم شاہ، محمد زمان، بابو محمد اشرف، خدائے رحیم محمد شہری اور دیگر نے خطاب کیا ۔
مقررین نے سانحہ کی ذمہ دار انسانی سمگلرز کو قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھر پورکارروائی کرنے اور شہداء کے لواحقین کو مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات میں سب سے زیادہ مزدور طبقہ متاثر ہورہا ہے حکومت ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔
گزشتہ دنوں تربت میں بیس غریب مزدورون کو شہید کیاگیا جو حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لوگ خراب معاشی حالات کے باعث جان ہتھیلیوں پر رکھ بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے خلاف اگلے ماہ تربت اور گوادر میں دھرنے بھی دیے جائیں گے۔مقررین کا کہنا تھا کہ خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر یونیورسٹی ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائی کررہے ہیں اور مختلف حربوں سے ملازمین کو ہراساں کررہے ہیں۔
وائس چانسلر کو فوری ہٹایا جائے۔ بلوچستان بھر کے ٹیکنیکل نان ٹیکنیکل ملازمین کو اپ گریڈ کیا جائے۔
ایری گیشن ڈرلنگ ڈائریکٹوریٹ کو فعال کرنے اور پرائیو ٹ ٹیوب ویلز کی غیر قانونی تنصیب کا سلسلہ بند کیا جائے۔
بی ڈی اے ے، پبلک ہیرنگ انجینئرگ فلٹریشن پلانٹ اور پی پی ایچ اائی اور دیگر محکموں کے عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے۔