کوئٹہ : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سول ہسپتال کوئٹہ میں مسلح افراد کی جانب سے ڈاکٹروں پر تشدد کے خلاف ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈ سے بائیکاٹ اور او پی ڈیز میں ٹوکن ہڑتال کا اعلان کردیا ۔
یہ اعلان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر خوستی نے جمعہ کو سول ہسپتال کوئٹہ میں وائی ڈی اے کی کابینہ کے اراکین کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔
ڈاکٹر یاسر خوستی نے کہاکہ جمعہ کو راونڈ کے دوران ایک مریض کے اٹینڈنٹ نے ڈاکٹر سے تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی تاہم ایم ایس سول ہسپتال نے اپنے دفتر میں مذاکرات کے بعد معاملے کو رفع دفع کر دیا گیا تاہم ایک بجے 20سے زائد مسلح افراد نے ایم ایس کے دفتر کے باہر حملہ کر کے چار ڈاکٹروں کو زخمی کر دیا اور فرار ہوگئے ۔
انہوں نے کہا کہ آئے روز ڈاکٹروں پر مریضوں کے تیمارداروں کے حملے عام ہو چکے ہیں انتظامیہ نے غیر تربیت یافتہ کمپنی کے گارڈز کو تعینات کردیا ہے جو صورتحال قابو کرنے میں ناکام ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایس کے دفتر کے سی سی ٹی وی کیمروں سے حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکتی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی ایمرجنسی میں ہڑتال کی جائے گی اور ہسپتال میں تربیت یافتہ سکیورٹی گارڈز اور ہر وارڈ میں تین گارڈز فراہم نہیں کئے جاتے او پی ڈی میں روزانہ دو گھنٹے کی ٹوکن ہڑتال جاری رہے گی ۔
دریں اثناء رات گئے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سیکرٹری صحت نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے ملاقات کی اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی جس پر ینگ ڈاکٹرز نے ایمرجنسی سروس بحال کرتے ہوئے ٹوکن ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی آج ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے جن کا اعلان پریس کانفرنس کے ذریعے کیا جائیگا