کوئٹہ: کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر خودکش حملے کے نتیجے میں خاتون اور کمسن بہن بھائی سمیت چھ افراد شہیدجبکہ پانچ سیکورٹی اہلکاروں سمیت 31 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں بارہ سالہ مقتول طالب علم کی دو کمسن بہنیں اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آٹھ سے دس کلو وزنی بارودی مواد اور بال بیرنگ سے بھری خودکش جیکٹ پہنے پیدل خودکش حملہ آور نے ایف سی چلتن رائفلز کے کمانڈنٹ کرنل اشتیاق کی گاڑی سے ٹکرا کر خود کو دھماکے سے اڑایا تاہم حملے کے وقت کمانڈنٹ گاڑی میں موجود نہیں تھے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی دوپہر تقریبا سوا بارہ بجے کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر پل کے قریب اس وقت دھماکا ہوا جب وہاں سے ایف سی کی تین گاڑیاں گزر رہی تھیں۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پشتون آباد اور شہباز ٹاؤن کے علاقوں میں بھی سنی گئی۔ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر تباہی پھیل گئی۔
ایف سی کی دو گاڑیوں، دو رکشوں، تین موٹرسائیکلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قریب کی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ ایک خاتون سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں دم توڑ گئی جبکہ 31افراد زخمی ہوئے ۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے۔ لاشوں اور زخمیوں کو ایدھی اور چھیپا کے ایمبولنسز اور سیکورٹی فورسز و نجی گاڑیوں کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر دھماکے کی جگہ کی طرف جانیوالے راستوں کو عام آمدروفت کیلئے بند کردیا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد تصدیق کی کہ دھماکا خودکش تھا جس میں آٹھ سے بارہ کلو بارودی مواد استعمال کیاگیا۔ خودکش حملہ آور کا سر جائے وقوعہ سے تقریباً25میٹر فاصلے سے ملا ہے ، حملہ آور کی عمر تقریباً30سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی ہے۔
ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ کے مطابق تھاک میں کھڑے خودکش حملہ آور نے ایف سی چلتن رائفلز کے کمانڈنٹ کرنل اشتیاق کی گاڑی سے خود کو ٹکرا کر دھماکا کیا جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا اور اس میں سوار اہلکار بھی زخمی ہوئے تاہم کرنل اشتیاق حملے کے وقت گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ گاڑی انہیں لینے کیلئے جارہی تھی۔ خودکش حملہ آور کا سر اور ٹانگیں تحویل میں لے لی گئی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور اور ایف سی کمانڈنٹ کی گاڑی کے درمیان میں رکشہ آگیا تھا اس لئے ایف سی کی گاڑی کو زیادہ نقصان پہنچا جبکہ رکشے میں سوار ڈرائیور اور سکول سے چھٹی کے بعد رکشے میں گھر جانیوالا بارہ سالہ طالب علم آکر جاں بحق جبکہ رکشے میں سوار تین کمسن طالبات زخمی ہوئیں ۔
زخمیوں میں پانچ ایف سی اہلکار لانس نائیک ابو زر، سپاہی شاہ ریاز، سپاہی حق نواز، سپاہی خضر حیات اور سپاہی ابراہیم بھی شامل ہیں جنہیں ایف سی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ابراہیم کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
باقی زخمیوں کو سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ سول ہسپتال میں دھماکے کے فوری بعد ایمر جنسی نافذ کردی گئی۔ سینئر ڈاکٹروں سمیت تمام طبی عملے کو طلب کیاگیا۔
سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق سول ہسپتال میں 28زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے ایک خاتون بی بی نرگس دختر ثناء اللہ بلوچ (سکنہ حال زمیندار گلی کوئٹہ مستقل پنجگور )ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئی۔
شدیدزخمی بچی علیشاہ کو مزید علاج کیلئے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہیں لاتے ہوئے رات گئے چل بسی جاں بحق ہونیوالے باقی افراد کی شناخت برما ہوٹل سریاب کوئٹہ کے رہائشی رکشہ ڈرائیور نذیر احمد ولد کریم داد ترین ، کوئٹہ کے علاقے سریاب زمیندار گلی کے رہائشی بارہ سالہ طالب علم علی خان ولد بلند خان سندھی ،کوئٹہ کے علاقے احمد زئی کالونی ایوان قلات امیر حمزہ ولد سہیل احمد قوم جعفر ،کوئٹہ کے علاقے شفیع کالونی سریاب روڈ کے رہائشی پی ٹی سی ایل ملازم حبیب اللہ ولد محمد اسحاق بنگلزئی کے طور پر ہوئی ہے۔
زخمیوں میں جاں بحق ہونیوالے 12سالہ علی خان کی تین بہنیں آٹھ سالہ بی بی عالیہ دختر بلند خان سندھی سکنہ زمیندار گلی ،د س سالہ علیشہ اور چھ سالہ مہک بی بی بھی شامل ہیں۔
دیگر زخمیوں میں دو خواتین شمیم زوجہ ثناء اللہ بلوچ سکنہ زمیندار گلی کوئٹہ،بی بی ذکیہ زوجہ غلام رسول گولہ سکنہ زمیندار کالونی ،سول سیکریٹریٹ میں انڈر سیکریٹری کی حیثیت سے تعینات طالب حسین ولد دلدار خان سومرو کوئٹہ،محمد ارشد ولد اللہ یار قوم پنجابی سکنہ لودھرا پنجاب،امتیاز احمد ولد عبدالخالق اچکزئی سکنہ قلعہ عبداللہ ،
اختر محمد ولد نیک محمد بڑیچ سکنہ حاجی غیبی روڈ،صدام ولد محمد زئی اچکزئی سکنہ گلستان،ضمیر ولد یحییٰ لانگو سکنہ کلی اسماعیل کوئٹہ،یعقوب آغاولد ابوبکر آغا قوم سید سکنہ ابوالخیر روڈکوئٹہ، امیر محمد ولد گل محمد شاہوانی سکنہ سریاب روڈ،مہر خان ولد میر حسن بلوچ سکنہ کلی دیبہ ،عبدالرحمان ولد ملک منظور شاہوانی سکنہ قمبرانی کالونی سریاب روڈ،
غلام دستگیر ولد شیر محمد بنگلزئی سکنہ کرانی روڈ،محب اللہ ولد حاجی سنگین بارکزئی سکنہ فاروقیہ مسجد،محمد وارث ولد رستم خان بھنگر سکنہ کلی جیو کوئٹہ ،محمد نائب ولد غلام قادر رند سکنہ ڈبلر وڈ،محمد نسیم ولد جان محمد بڑیچ اتحاد کالونی بائی پاس اوریاسر احمد ولد گلاب خان زہری سکنہ سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ ،تنویر ولد عبدالاحد سکنہ کوئٹہ،قمر ولد عبداللہ سکنہ کوئٹہ،محمد نعیم ولد جان محمد سکنہ کوئٹہ اورخدا بخش ولد عطا محمد سکنہ کوئٹہ شامل ہیں شامل ہیں۔
سول ہسپتال کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ ستائیس زخمیوں میں سے 14کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیاگیا۔ 13 زخمی ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں۔ زخمیوں میں دو بچیوں سمیت سات افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
شدیدزخمی بچی علیشاہ کو مزید علاج کیلئے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہیں لاتے ہوئے رات گئے چل بسی ۔ دریں اثناء صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی، آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم احمد انجم ، ایف سی کے سیکٹر کمانڈر کوئٹہ بریگیڈیئر تصور عباس، ایف سی کے کرنل اشتیاق اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔