|

وقتِ اشاعت :   November 27 – 2017

کوئٹہ:  کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز پر خودکش بم حملے کا مقدمہ نامعلوم دہشتگردوں کے خلاف درج کرلیا گیا۔ پولیس نے شک کی بناء پر حراست میں لئے گئے 100زائد افراد کو تفتیش کے بعد رہا کردیا۔ جائے وقوعہ کو تیس گھنٹے بعد ٹریفک کیلئے بحال کردیاگیا۔ 

کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ہفتہ کی دوپہر کو سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر خودکش حملے میں دو کمسن بہن بھائیوں اور ایک خاتون سمیت چھ افراد شہید اور اکتیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کے بارہ زخمی اس وقت سول ہسپتال ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں۔ 

پولیس کے مطابق دھماکے کا مقدمہ تھانہ سریاب میں ایف سی اہلکار لانس نائیک امیر اصغر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل،اقدام قتل ،دھماکا خیز مواد ایکٹ اور انسداد دہتگردی ایکٹ کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ جبکہ شک کی بنیاد پر حراست میں لئے گئے سو سے زائد افراد کو تفتیش کے بعد رہا کردیا۔ 

پپولیس حکام کے مطابق دھماکے کی جگہ کو تیس گھنٹے سے زائد تک کو عام آمدروفت کیلئے بند رکھا گیا تھا تاہم لاہور سے پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم کوئٹہ نہ پہنچنے کے بعد سریاب روڈ کو ٹریفک کیلئے بحال کردیاگیا۔ 

پولیس حکام کے مطابق لاہور سے ماہرین کی ٹیم نہ پہنچنے کے باعث سی آئی اے، کرائم برانچ اور پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے خود جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے ہیں۔ خودکش حملہ آور کے اعضاء کے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے جبکہ دیگر شواہد فارنزک ٹیسٹ کیلئے پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری لاہور بجھوائے جائیں گے۔ 

دوسری جانب پولیس، سی ٹی ڈی، ایف سی اور خفیہ اداروں نے دھماکے کی جگہ کے اطراف سے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرکے خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کی تلاش شروع کردی ہے۔