کوئٹہ: معذوروں کے عالمی دن کو بلوچستان میں اپنے آئینی حقوق کیلئے سراپا احتجاج معذوروں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا ،کوئٹہ پریس کلب کے سامنے سیمینار احتجاجی ریلی ومظاہرہ کیاگیا,ڈیرہ اللہ یار میںیوم سیاہ پر ریلی ۔
تفصیلات کے مطابق ہمدرد معذوران ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام حافظ ابراہیم اور سمیع یوسفزئی کی قیادت میں میٹرو پولٹین کارپوریشن سے ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی۔
مظاہرین سے خطاب کر تے ہوئے مقررین نے کا کہناتھا کہ پاکستان کے آئین میں معذوروں کا روزگار کی فراہمی کے لئے کوٹہ مقرر ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا جس کی وجہ سے معذوروں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے معذوروں کو روزگار کی فراہمی کے لئے ان کے کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے جو وعدے کئے ہیں ان پر عمل کر کے معذوروں کو روزگار دیا جائے تاکہ ان میں پائی جانیوالی تشویش دور ہو سکے۔
آواز معذوران بلوچستان کیمنعقدہ سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے عزت اللہ ودیگر کا کہناتھا کہ ہم نے گزشتہ کئی عرصے سے معذوروں کے مطالبات کے حق پر مبنی 11 رکنی چارٹر آف ڈیمانڈ دیا ہے تا حال اس پر کوئی عملدرآمد نہیں جس میں ملازمتوں پر معذوروں کے لئے خصوصی پیکج اور نادرا کے توسط سے معذوروں کو انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جائے اور یونیسیف کے زیر اہتمام پولیو مہم میں یونین کونسل معذور افراد کو خصوصی طور پر موقع دیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں ۔
اس کے علاوہ صوبے کی مختلف این جی اوز کو معذور افراد کو بھرتی کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ انہیں روزگار ملے حکومت معذور افراد کی بحالی کے لئے خصوصی رقم مختص کریں اور آواز معذوران بلوچستان کو دفتر کے لئے جگہ دیں تاکہ وہ صوبہ بھر سے آنیوالے معذور افراد کو قیام کرا سکے ۔
بلوچستان میں فوری طور پر معذوروں کو دو کروڑ کی خصوصی گرانٹ دی جائے حکومت ڈائریکٹوریٹ ، سوشل ویلفیئر کی جانب سے معذوروں کیساتھ ناروا سلوک کا نوٹس لیں اور تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم کے انتظامات کریں ۔
معذور طلباء کے لئے صوبے کے200 لو گوں کو لیپ ٹاپ دیں تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کو یقینی بنا سکے اور معذور افراد کو ٹرائی موٹرسائیکل دی جائے تاکہ وہ سفر کے لئے لوکل بسوں میں دھکے نہ کھائے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں تمام قوانین موجود ہے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے دیگر لو گوں کی طرح معذور افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،ڈیرہ اللہ یار میں بھی انجمن معذوران کی جانب سے معذوران نے اپنے عالمی دن کو سوگ کے طور پر منایا ، احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
ریلی کی قیادت ہمدرد معذوران کے صدر خادم حسین مری کررہے تھے ریلی میں سول سوسائیٹی کے نمائندوں اور معذوران نے بڑی تعداد میں شرکت کی ریلی شہر کے مختلف راستوں پر مارچ کرتی ہوئی عدالت روڈ پر دھرنے میں تبدیل ہوگئی ۔
اس موقع پر مقررین کاکہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں معذوران کے حقوق غصب کیئے جارہے ہیں مختلف محکماجات میں انکی تزلیل کی جارہی ہے ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کیئے گئے ہیں اعلیٰ معذور نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر گھوم رہے ہیں انکی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔