کوئٹہ: وادی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور بالائی علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں آگئے۔زیارت میں درجہ حرارت منفی نو، قلات میں منفی آٹھ اور کوئٹہ میں منفی چھ ریکارڈ کیاگیا۔ یخ بستہ ہوائیں چلنے کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ نالیوں اور سڑکوں پر جمع پانی جم گیا۔
گیس پریشر میں کمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث گھروں اور دفاتر میں سردی سے ٹھٹھرتے رہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ اڑتالیس گھنٹوں تک کوئٹہ ، قلات اور ژوب ڈویژن میں سردی کی شدت برقرار رہے گی۔
اتوار سے چلنے والی یخ بستہ ہواؤں کے باعث کوئٹہ، پشین،خانوزئی، زیارت، مسلم باغ، کان مہترزئی، توبہ اچکزئی،توبہ کاکڑی، ژوب، قلعہ عبداللہ، چمن ،گلستان، قلات، سوراب، ہربوئی، منگچر خالق آباد،مستونگ،مچھ ،نوشکی، دالبندین ،پنجگور اور دیگر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔صوبے کے شمالی اور بالائی علاقوں میں درجہ حرارت منفی نو تک گر گیا۔ رات اور صبح سویرے کے اوقات میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6جبکہ زیادہ سے زیادہ 8سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا۔کوئٹہ میں ہوا میں نمی کا تناسب80فیصد رہا۔سب سے زیادہ سردی زیارت میں منفی9ریکارڈ کیاگیا۔ قلات میں درجہ حرارت منفی8اور دالبندین میں منفی2رہا۔ بارکھان میں کم سے کم درجہ حرارت5.5،گوادر میں10، جیوانی میں14، خضدار میں5،لسبیلہ میں12،نوکنڈی میں 1، پنجگور میں2، پسنی میں 16.5، سبی10،تربت 13، اورماڑ11، ژوب میں کم سے کم درجہ حرارت ایک ریکارڈ کیاگیا۔
کوئٹہ،زیارت، قلات ، مستونگ ، پشین سمیت دیگر علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کے باعث کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لوگ گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے۔
دفاتر میں حاضریاں بھی معمول سے کم رہیں ۔ دکانیں، مارکیٹیں اور بازار صبح دیر سے کھلے اور سرشام ہی بند ہوگئے۔ سردی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائپ لائنوں، نالیوں اور سڑکوں پر کھڑا پانی برف بن گیا ۔کوئٹہ کے بیشتر علاقوں میں گیس پریشر غائب ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی معمول سے زیادہ ہوگئی ہے۔ شہری ایل پی جی ،کوئلہ اور لکڑی سمیت متبادل ایندھن استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔ خواتین کیلئے ناشتہ اور کھانا بنانا اور روٹی پکانا بھی مشکل ہوگیا۔
سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی شہریں نے گرم کپڑوں کا استعمال زیادہ کردیا۔ شہریوں نے جرسیوں کے ساتھ ساتھ موٹے اور گرم جیکٹ، گرم جرابوں ، پاجاموں ، مفلراور چادروں کا استعمال بھی شروع کردیا۔