|

وقتِ اشاعت :   December 5 – 2017

کوئٹہ : چین نے سی پیک کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کی مالی امداد روک دی ڈیرہ اسما عیل خان ژوب اور خضدار کی سڑک بھی متاثر ہو گی باوثوق ذرائع کے مطابق چین نے سی پیک کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کی مالی امداد روک دی۔

یہ فیصلہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ( این ایچ اے) کے ایک کھرب روپے سے زائد کے منصوبوں پر اثر انداز ہوگا تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ اس کا اثر کتنا وسیع ہوگا لیکن ابتدائی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کم سے کم تین منصوبوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جو منصوبے متاثر ہوں گے ان میں 210 کلو میٹر کا ڈیرہ اسماعیل خان-ژوب شاہراہ، جس کا تخمینہ 81 ارب روپے تک لگایا گیا ہے، جس میں 66 ارب روپے سڑک کی تعمیر جبکہ 15 ارب روپے زمین کے حصول پر خرچ کیے جائیں گے ۔

اس کے علاوہ 19 ارب 76 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے 110 کلو میٹر طویل خضدار کی سڑک بھی متاثر ہو گی جبکہ 8ارب 5 کروڑ روپے سے قراقرم ہائی وے ( کے کے ایچ)کا رائے کوٹ سے تھاکوٹ تک رہ جانے والا 136 کلو میٹر کا حصہ بھی متاثر ہو گا۔

یہ تینوں منصوبے اصل میں حکومت کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ تھے لیکن دسمبر 2016 میں این ایچ اے کے ترجمان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ چین کو رعایتی فنانس کا اہل بننے کے لیے ان منصبوں کو سی پیک میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ذرائع نے بتایا کہ ان تینوں منصوبوں کے لیے فنڈز گزشتہ برس چھٹے جے سی سی اجلاس میں منظور کیے گئے تھے اور یہ امید کی جارہی تھی کہ ضروری رسمی طریقہ کار کے بعد تینوں منصوبوں کی فنڈنگ کو 20 نومبر کو جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں حتمی شکل دے دی جائے گی لیکن اجلاس میں پاکستان کو بتایا گیا کہ بیجنگ کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی جائیں گی، جس میں فنڈز کے لیے نیا طریقہ کار بیان کیا جائے گا۔

جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں پاکستان کو چینی حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا تھا جس کے بعد فنڈز کے حصول کا موجودہ طریقہ کار ختم ہوگیا تھا۔خیال رہے کہ پچھلے طریقہ کار کے تحت فنڈز کو 6 مختلف فورمز سے منظور کرایا گیا تھا جس کے بعد فنڈز کا اجرا کیا جانا تھا۔

حکام نے کہا کہ چینی انتظامیہ نے ہمیں بتایا کہ فنڈز کے اجراء کا گزشتہ طریقہ کار صرف ابتدائی منصوبوں کے لیے تھا اور سی پیک کے مستقبل کے منصوبوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نئے طریقہ کار کے اثرات سرکاری طور پر بیان کردہ تین سڑکوں سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ چینی حکام سی پیک کے منصوبوں میں کرپشن کے حوالے سے پاکستان میں شائع ہونے والی خبروں پر کافی پریشان تھے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عارضی طور پر راہداری کے لیے فنڈز روک دیئے ہیں۔