کوئٹہ: سابق سینیٹر مہیم خان بلوچ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ واحد ادارہ ہے جو عوام کی مسائل اور عوامی طاقت سے لوگ منتخب ہوتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کی طاقت کے بجائے ریاستی طاقت کا استعمال ہورہا ہے ۔
بلوچستان کے ساتھ1970سے لیکر آج تک ہر حوالے سے زیادتی جاری ہے آج بھی بلوچستان کے کوٹے پر وفاق میں غیر مقامی جبکہ گوادر میں مقامی لوگوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے‘یہ بات انہوں نے جمعرات کے روزکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی‘ ۔
انہوں نے کہاکہ ہر دور میں قومی وحدتوں کے عوام کو آزادانہ ووٹ استعمال کرنے کا موقع ملا ہے لیکن بدقسمتی سے عوام کی ووٹ کا احترام نہیں کیا اور نہ آج تک پارلیمنٹ کی اختیارات دئیے گئے ہیں ماضی میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حکومتوں کو ختم جبکہ بنگلہ دیش کو ہم سے الگ کیاگیا ۔
انہوں نے کہاکہ آج سیاسی دور کے حوالے سے بلوچستان دنیا کے بہترین وطن میں شمار ہوتا ہے لیکن بلوچ دنیا کے غربت اور بدترین زندگی گزاررہے ہیں 1992سے گیس یہاں سے نکلتی ہے لیکن بلوچستان کے عوام کو اس سلسلے میں نظر انداز کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ سی پیک گوادر جو ایک متنازعہ اسکیم ہے ۔
بلوچ قوم کے دلوں میں اس مسئلے پر سخت تحفظات اور خدشات پائے جاتے ہیں کچھ دن پہلے بلوچستان کے سینیٹرز نے جومیڈیا پر آکر تحفظات کا اظہار کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بلوچوں کو ایک بار پھر نظر انداز کیاگیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ اسی طرح بلوچستان کے مختلف محکموں میں میرٹ کی خلاف ورزی جبکہ وفاقی محکموں میں بلوچستان کے عوام کو نظر انداز غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جارہا ہے۔
وفاق کی بلوچستان کے ساتھ ذیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے، مہیم خان
![]()
وقتِ اشاعت : December 15 – 2017