|

وقتِ اشاعت :   December 20 – 2017

کوئٹہ: گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی پر خودکش حملے کی سازش ناکام بنادی گئی۔ منصوبہ ساز کو سہولت کار سمیت پاک افغان سرحدی علاقے سے گرفتار کرکے خودکش جیکٹیں اور اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔

وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنایا گیا تھا۔ کوئٹہ میں ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میرسرفراز بگٹی نے بتایا کہ حساس ادارے اور پولیس نے خفیہ اطلاع پر قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان میں کارروائی کی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان قاری گروپ کے دو دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔

گرفتار دہشتگردوں میں حامد بشیر ولد محمد بشیر کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ دوسرے ملزم منور احمد ولد محم شفیع کا تعلق گلستان سے تھا۔ اس گروہ نے افغانستان میں بیٹھ کر یہ منصوبہ بنایا تھا کہ آبائی علاقے گلستان آمد کے موقع پر گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی پر خودکش کیا جائیگا۔

اس کیلئے منور احمد نے سہولت کار کا کردار ادا کرنا تھا اس نے گورنر کی آمد کی اطلاع دینی تھی جس کے بعد حامد بشیر نے قریب ہی واقع افغان سرحد سے خودکش حملہ آور کو لے آنا تھا تاہم خفیہ ادارے نے بروقت کارروائی کرکے یہ منصوبہ ناکام بنادیا اور ملک کو ایک سیاسی مدبر شخصیت سے محروم کرنے کی سازش ناکام کی ہے۔

گورنر بلوچستان کی حیثیت سے سیمبلنگ ویلیو ہے۔ وہ پشتونخوامیپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بڑے بھائی ہیں اور پشتونخوامیپ میں بھی ان کی بڑی حیثیت ہے۔ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ گرفتار دہشتگردوں کا تعلق اسی گروہ سے ہے جس نے پنجاب میں صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کو شہید کیا۔

گرفتار دہشتگردوں سے دو خودکش جیکٹیں،تین انٹی ٹینک مائنز، 74بارودی سرنگیں، سات راکٹ گولے، تین مارٹر گولے، سینکڑوں گولیاں، پرائما کارڈز، ڈیٹونیٹر،بیٹریاں، فیوز اور بم بنانے کے معاون آلات برآمد کئے گئے ہیں۔

صوبائی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میتھوڈیسٹ چرچ پر حملہ کرنیوالے دہشتگرد غیرملکی تھے۔ ان کے فنگر پرنٹس نادرا ریکارڈ سے میچ نہیں ہوسکے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے بیشتر واقعات میں افغانستان سے آنیوالے دہشتگرد ملوث ہیں۔

سرفراز بگٹی کا کہنا کہ دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر بلوچستان کی اہم شخصیات اور پولیس آفیسران کی سیکورٹی بڑھادی گئی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ آفیسران اور ضلعی پولیس سربراہان کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جارہی ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کیلئے دہشتگردی کے خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ انہوں نے عوام میں جانا ہے۔