کوئٹہ: ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس اور ریجنل پولیس آفیسر عبدالرزاق چیمہ نے کہاہے کہ پولیس کی جانب سے 16مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوادئیے گئے ہیں ،دہشت گرد پہلے پولیس اہلکاروں جبکہ اب آفیسران کو ٹارگٹ کررہے ہیں تاہم پولیس کا مورال اسی طرح بلند ہے ۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 2017ء میں عوام اور فورسز پر خودکش بم حملوں میں اضافہ ہواہے تاہم خودکش حملوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ہلاکتوں کی تعداد کم ہے ،آئی ای ڈیز بم دھماکوں اور اس میں ہلاکتوں میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال کمی ہوئی ہے ۔
پولیس کی جانب سے 5ہزار 643مقدمات درج کئے گئے جن میں نامزد 12ہزار 180ملزمان میں سے 71فیصد کوعدالتوں سے سزائیں سنائی گئی ہیں ،پولیس اور عوام کے درمیان کوارڈینیشن کو بہتر بنا کر جرائم کو کم کرنے کی کوششیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی ۔
ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ پولیس کے دیگر�آفیسران بھی موجود تھے ۔ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ کاکہناتھاکہ سال رواں کے دوران قتل اور اقدام قتل کے واقعات میں 13اور6واقعات گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوئے ہیں تاہم لڑائی جھگڑے کے مقدمات گزشتہ سال کے مقابلے میں 11زیادہ ہے ۔
اغواء برائے تاوان کے گزشتہ سال 5جبکہ اس سال 4واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ بینک اور پیٹرولیم پمپس میں کوئی واقعہ نہیں ہوا تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ڈکیتی کے واقعات بڑے ہے ،پچھلے سال ڈکیتی کی 11جبکہ اس سال13واقعات ہوئی ہیں ۔
ان کا کہناتھاکہ 2017ء میں گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں اضافہ ہواہے تاہم موٹرسائیکل چھیننے اور چوری کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے ،گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال گاڑی چوری کے 20واقعات زیادہ ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ اب گاڑی اور موٹرسائیکل چوری کی واردات کے بعد مقدمات کے اندراج میں کوئی سستی برداشت نہیں کی جاتی بلکہ اب روزانہ کی بنیاد پر 15اور کنٹرول کو ملنے والے معلومات کے تحت رپورٹ طلب کی جاتی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال سویلین اور فورسز پر 4خودکش بم دھماکے کئے گئے جن میں 155افراد جاں بحق جبکہ 270زخمی ہوئے تھے،خودکش بم حملوں کے نتیجے میں 71پولیس اہلکار ،5ایف سی اہلکار ،ایک فوجی جوان جبکہ78شہری جاں بحق ہوئے تھے ۔
اس سال اگر چہ خودکش بم حملوں میں 12پولیس اہلکار ،10آرمی اہلکار جبکہ 23عام شہری لقمہ اجل بنے ہیں ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال خودکش بم حملوں کے نتیجے میں 127پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ اس سال 39پولیس اہلکار خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں ۔
خودکش بم حملوں میں کے نتیجے میں 14ایف سی اور 6فوجی وجوان اور 123عام شہری زخمی ہوئے تھے اس سال 6ایف سی اہلکار 25فوجی جوان اور 125سویلین زخمی ہوئے ہیں ۔
ان کاکہناتھاکہ گزشتہ سال اور ایف سی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے 34واقعات رونما ہوئے جبکہ اس سال یہ واقعات 21ہے گزشتہ سال ٹا رگٹ کلنگ کے نتیجے میں 55پو لیس اور ایف سی اہلکا ر جاں بحق ہو ئے تھے جبکہ اس سال ان کی تعداد 49ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد گزشتہ سال 16اور اس سال 11ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ 45ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد عدالت کی اجازت کے بعد ناکارہ بنادیاگیاہے ،انہوں نے کہاکہ 2017ء میں پولیس کی جانب سے مختلف نوعیت کے 5643کیسز درج کئے گئے جن میں12180افراد کو نامزد کیا گیا تھا 1195کیسز میں 4823ملزمان کو سزائیں سنائی گئی جبکہ 711کیسز میں نامزد 1435ملزمان کے ساتھ کمپروامائز کیا گیا ۔
ان کاکہناتھاکہ پولیس کی جانب سے درج کئے گئے کیسز میں نامزد 71فیصد ملزمان کو مختلف عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہے ،انہوں نے کہاکہ 4ملزمان کو 20کو عمر قید ،23کو7سے 14سال تک جبکہ 71ملزمان کو 3سے 7سال جبکہ 122ملزمان کو ایک سے 3سال تک سزائیں سنائی گئی ۔
ایک سال سے کم سزا والے 157ملزمان ہیں ،انہوں نے کہاکہ پولیس کی جانب سے آئندہ سال امن وامان کی صورتحال ،جرائم پر قابو پانے کیلئے اسٹریٹجی کو ری ویو کیاجارہاہے ہماری کوشش ہے کہ پولیس اور پبلک کوارڈینیشن کو مزید بہتر بناکر کارکردگی کو مزید صحیح کیاجاسکے ۔
انہوں نے کہاکہ سال 2017ء کے دوران منشیات برآمدگی کے 432کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں 186ملزمان کو سزائیں ہوئی جبکہ تین ملزمان جو 2فیصد بنتے ہیں بری کئے گئے انہوں نے کہاکہ 2017ء کے دوران پولیس کی جانب سے 2935اعشاریہ 905کلو گرام چرس ،2اعشاریہ 289کلوگرام ہیروئن ،208گرام افیون ،15گرام کرسٹل اور 10گرام شیشہ برآمد کیا گیا اس وقت منشیات کے 242کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہے ۔
انہوں نے کہاکہ منشیات برآمدگی کے مقدمات گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال زیادہ ہے ،عبدالرزاق چیمہ کاکہناتھاکہ کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کو ایک مرتبہ پھر فالو کیاجائیگا ،اس میں جو تکنیکی مسائل ہے انہیں متعلقہ محکمے دیکھ ہے ہیں ،ان کاکہناتھاکہ میں دہشت گرد فورسز پر حملے کرکے کا مورال ڈان کرناچاہتے ہیں ۔
اس کیلئے پہلے پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا جبکہ اب آفیسران ان کی ٹارگٹ پر ہے لیکن دونوں حربے ان کے ناکامی سے دوچار ہوئے کیونکہ پولیس کا مورال بلند ہے انہوں نے کہاکہ فورسز پر حملوں میں ملوث ملزمان کو فوجی اوردیگر عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی جاچکی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر ہزارہ برادری کی گاڑی کو آج ٹارگٹ کیاگیاہے جس میں 3افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ پولیس کی جانب سے 16کیسز فوجی عدالتوں کو بھجوائے گئے ہیں ان کاکہناتھاکہ جن پولیس اہلکاروں کی جرائم میں ملوث ہونے کی شکایات ملی ہے انہیں محکمہ اور دیگر طرز کی سزائیں دی گئی ہیں ۔
ان کاکہناتھاکہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا مسئلہ ایک حقیقت ہے کیونکہ یہاں پارکنگ پلازے نہیں ہے اور دوسری جانب تجاوزات بھی اس سلسلے میں ہمارے مشکلات کو بڑھا رہے ہیں ۔
دہشتگرد ی کے 16 مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوا دیئے گئے ہیں ، بلوچستان پولیس
![]()
وقتِ اشاعت : December 23 – 2017