|

وقتِ اشاعت :   December 24 – 2017

کوئٹہ :  بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں پارٹی نظریاتی ویژن کے ساتھ حصہ لے گی جس میں بنیادی اہمیت بلوچستان کی تعمیر و ترقی کو حاصل ہو گا۔

2013 ء کے انتخابات میں بی این پی کی مینڈیٹ کو چھین کر ایسے جماعتوں کو نوازا گیا جنہوں نے بلوچستان کی ترقی میں کم وسائل کی لوٹ مار میں زیادہ حصہ لیا ،بی این پی کے سنٹر ل کمیٹی نے آنے والے انتخابات کے حوالے سے پارٹی پالیسی واضح کر دی ہے ،بلوچستان کے مفادات کو دیکھ کر انتخابی اتحاد کرئینگے ۔

سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتا حالات کو دیکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں،بی این پی ترقی مخالف نہیں جو ترقی بلوچستان و بلوچ قوم کے لئے ہو گا اس کی ہم ضرور حمایت کرئینگے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار میں پارٹی کارکنان و عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبد الولی کاکڑ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر ساجدترین ایڈوکیٹ ، واجہ جہانزیب بلوچ ، بلوچستان نیشنل پارتی ضلع خضدار سینئر نائب صدر حیدرزمان بلوچ ، جنرل سیکرٹری عبد النبی بلوچ، تحصیل خضدار کے صدر آغا سمیع اللہ شاہ و دیگر بھی موجود تھے ۔

قبل ازیں بی این پی کے سربراہ پارٹی رہنماء و سابق تحصیل نائب ناظم رئیس محمد خان مینگل کے انتقال پر ان کے گھر خضدار گئے اور تعزیت کا اظہار کیا انہوں نے پارٹی اور عوام کے لئے مرحوم کی خدمات کو سہراتے ہوئے کہا کہ ان کی انتقال سے خصوصاً بی این پی اور عموماً ضلع خضدار کے عوام دیانتدار سیاسی کارکن سے محروم ہو گئے ہیں مرحوم کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

پارٹی کارکنان سے سردار اختر جان مینگل نے اپنی گفتگو میں کہا کہ نظریہ کے بغیر کوئی بھی پارٹی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر سکتی اور نظریہ کی بنیاد جب اپنی قوم سے وابستہ ہو تو اس جماعت کو کوئی شکست دے دو چار نہیں کر سکتا بی این پی بلوچستان کے عوام کی حقوق کے لئے جدو جہد کرنے والی پارٹی ہیں اور آج ہماری جدو جہد کا مرکز و محور بلوچ قوم و بلوچستان کے عوام ہیں ۔

2013 ء کے انتخابات میں اختیار داروں نے بی این پی کی مینڈیٹ کو چھین کر ہاں میں ہاں ملانے والی جماعتوں کو دے دی اور ان جماعتوں نے بلوچستان میں کیا کچھ نہیں کیا وہ سب کے سامنے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اقتدار سے زیادہ اختیار کو اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔

آنے والے والے انتخابات اور پارٹی کی انتخابی اتحاد کے حوالے سے سردار اختر جان مینگل کا کہنا تھا کہ سیاست میں اصولوں کے علاوہ کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی اس حوالے سے پارٹی کے حالیہ سنٹرل کمیٹی میں واضح پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہیں ۔

ہماری کوشش ہو گی انتخابی اتحاد میں پارٹی سے زیادہ بلوچستان کے مفادات کو دیکھ کر فیصلہ کریں تاہم اتحاد کے حوالے سے کسی کے لئے دروازے بند نہیں ایک سوال کے جواب میں بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بی این پی نظریاتی جماعت ہے اور ہم بلوچستان کی تعمیر و ترقی چاہتے ہیں ۔

ہاں بشرطکہ اس ترقی میں بلوچستان اور بلوچ قوم اوریہاں آباد لوگوں کو اولیت حاصل ہو سی پیک سمیت تمام پرواجیکٹس پر بی این پی کا موقف واضح کلیئر ہیں