کوئٹہ : محکمہ تعلیم میں تعینات بیورو کریٹس کا اپنے ہی محکمے کے خلاف 15 جنوری2018ء سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان۔سینئر ایجوکیشنل سٹاف ایسوسی ایشن بلوچستان کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم میں آئے روز نت نئے تجربات کرکے اسے تباہی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔
محکمے میں کروڑ روپے کی مبینہ بے قاعدگیوں اور کرپشن و کمیشن کی تحقیقات سینئر افسران کی جگہ تعینات جونیئر افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔ سیاس بلوچستان کے صدر عبدالغفار کدیزئی، حمید صابر، محمد حنیف بنگلزئی، محمد قاسم خان، حبیب عالم کا کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی نفاذ کرکے اصلاحات لانے کا اعلان کیا تھا ۔
سیسا بلوچستان نے بھرپور ساتھ دیا مگر افسوس تعلیم کا شعبہ روز بروز زوال پذیر ہوتا جارہا ہے۔ محکمہ میں بوگس بھرتیوں کو چھپانے کلئے ڈائریکٹر سکولز نے تمام اضلاع کے ڈی ای اوز کو مراسلہ لکھا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں ڈائریکٹوریٹ سے جاری شدہ تمام تبادلوں کے احکامات کی جانچ پڑتال کروائی جائے اور آڈٹ اور انکوائری کے نام پر انہی ایجنٹوں کی ٹیم بنا کر مختلف اضلاع میں جارہے ہیں ۔
افسران اور پرنسپلز کو کمیشن دینے پر مجبور کیا جارہا ہے جو کہ بے تحاشہ کرپشن اور انتقال کی بدترین مثال ہے۔ دیگر اضلاع میں تبادلوں پر اساتذہ کرام سے لاکھوں روپے بٹورے جارہے ہیں اور سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس وقت محکمہ تعلیم کی درجنوں گاڑیاںً ائب ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور نہ جانے یہ گاڑیاں کہاں اور کس کے زیر استعمال ہیں اور جو نئی گاڑیاں خریدی گئی ہیں وہ بھی ایک ایجنٹ کے ذریعے من پسند افراد میں بانٹی جارہی ہیں جبکہ فیلڈ افسران کے پاس سکولوں کے دوروں کیلئے گاڑیاں نہیں ہیں غیر متعلقہ افراد ان گاڑیوں سے مستفید ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پرائمری اور مڈل سکولوں کی مرمت کیلئے2015-16 بجٹ میں 15 کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور کی گئی مگر یہ رقم کرپشن و کمیشن کی نذر ہوگئی جس کا اندازہ صوبہ بھر کے سکولوں کی حالت زار دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں گریڈ18 اور19 کی پوسٹوں پر جونیئر ٹیچرز کو تعینات کیا گیا ہے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان افراد کو نہیں ہٹایا جارہا جس کی وجہ سے سینئر افسران میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔
سیسا بلوچستان کے بار بار احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد تعلیمی ایمرجنسی کے نام نہاد دعویداروں کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور اس ناروا عمل کو دوام دینے اور جان بوجھ کر افسران اور سینئر اساتذہ کرام کے انونی پروموشن کو التواء میں رکھا جارہا ہے تاکہ ان جونیئرز ٹیچرز کو سینئر انتظامی پوسٹوں پر براجمان رکھا جاسکے اور ان ایجنٹوں کا کاروبار جاری رہے پروموشن نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت پورے بلوچستان میں1378 پوسٹوں میں سے987 پوسٹوں پر جونیئرز براجمان ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ من پسند افراد کو نوازنے کیلئے محکمہ فنانس سے ایڈمنسٹریل اپروول لئے بغیر پوسٹوں کو بجٹ بک میں غیر قانونی طریقے سے شامل کروایا جاتا ہے جس میں اپنے منظور نظر افراد کو ایڈجسٹ کیا گیا ہے جس کی واضح مثال ایڈیشنل ڈائریکٹر آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ کی پوسٹ ہے جو کہ باقاعدہ منظوری کے بغیر بجٹ بل میں ڈالی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ محکمہ تعلیم میں منسٹر کیڈر (نان ٹیچنگ سٹاف) کی تعیناتیاں کی جارہی ہیں تمام اضلاع سے ٹیسٹ اور انٹرویو کا ریکارڈ لاکر خلاف قاعدہ ڈائریکٹوریٹ میں من پسند افراد کو کروڑوں روپے کی رشوت کے عوﷲ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس ضن میں ہر پوسٹ کی باقاعدہ قیمت لگائی گئی ہے جبکہ اضلاع کے افسران سے تیار شدہ فہرستوں پر صرف دستخط لئے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس تعلیمی زبوں حالی، کرپشن و کمیشن ، بے ضابطگیوں اور ناروا اقدامات سے مجبور ہو کر گریڈ20 کے دو سینئر ترین افسران مجبوراً قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر گئے ہیں اور مزید سینئر افسران جارہے ہیں۔
لہٰذا ہم نیب بلوچستان اور اینٹی کرپشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں ہونے والے بوگس تبادلوں اور تعیناتیوں کی شفاف تحقیقات کی جائے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈائریکٹر سکولز کو بذریعہ پریس کانفرنس، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور نوٹس سے آگاہ کیا جاتا ہے اور اگر ان بے ضابطگیوں کا نوٹس نہ لیا گیا تو سیسا بلوچستان بھر میں15 جنوری سے احتجاج شروع کرے گی جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ تعلی کے ارباب اختیار پر عائد ہوگی۔
محکمہ تعلیم میں کرپشن بدعنوانیاں عروج پر سینئر افسران کا احتجاج کا اعلان
![]()
وقتِ اشاعت : December 27 – 2017