کوئٹہ : واشک کے زلزلہ متاثرین کا پی ڈی ایم اے کی جانب سے4920 افراد سے لئے گئے پانچ پانچ سو روپے واپس کرنے کا مطالبہ۔
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر جیئند خان ریکی، احسان الٰہی ریکی اور دیگر کا کہنا تھا کہ 16 اپریل2013ء کو ماشکیل میں8.3 شدت کے بدترین زلزلے نے قیامت صغریٰ بپا کی جس میں 18 شہادتیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے اور چھ ہزار گھرانے زمین بوس ہوگئے تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ ماشکیل ریگستانی علاقہ ہونے کی وجہ سے اپریل کے آگ برساتے سورج اور دھوپ میں بیٹھے بے سروسامان بیٹھے رہے۔ گذشتہ20 سال سے ضلع واشک کے نام پر برسراقتدار نمائندوں نے الیکشن مہم میں زلزلہ زدگان کو طفل تسلیاں دے کر ووٹ حاصل کئے اور کامیابی کے بعد ماشکیل کے زلزلہ زدگان کے شہداء کی فاتحہ کیلئے بھی نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے4920 زلزلہ زدگان کی لسٹ جاری کرکے ہدایت کی تھی کہ ڈاکخانہ میں فی فرد پانچ سو روپے دے کر اکاؤنٹ کھولے اور زلزلہ پیکج بذریعہ ڈاکخانہ اکاؤنٹ میں وصول کرے مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی لہٰذا ہم متعلقہ محکمے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے500 روپے واپس کئے جائیں۔
واشک، پی ڈی ایم اے متاثرین کیساتھ ہاتھ کر گئی
![]()
وقتِ اشاعت : December 27 – 2017