|

وقتِ اشاعت :   December 28 – 2017

کوئٹہ : کوئٹہ کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیو ڈی اے کی جانب سے تکتو سٹی ہاؤسنگ سکیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمے نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو اپنی سرزمین کے دفاع کیلئے ہمارے ساتھ ہماری خواتین بھی ملالئی اور زرغونہ آنا کا کردار ادا کریں گی۔

1945ء میں فرنگی سرکار اور قبائل کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ چیز طے پائی تھی کہ بلوچستان میں سرکار کی کوئی زمین نہیں یہاں جنگل اور پہاڑ بھی مقامی آبادی کی ملکیت ہیں ہر دس سال بعد محکمہ ریونیو بندوبست کی ازسر نو تشکیل کا پابند ہے۔

25 سال قبل بھی مذکورہ زمین کو بزور طاقت ہم نے بچایا تھا آج بھی اس کو بچانے کی سکت رکھتے ہیں۔ مقامی قبائل کی زمینوں پر شب خون مارنے والے اغبرگ اور نوحصار کا واقعہ دھرانا چاہتے ہیں۔ 

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر بازئی، ملک نصیر احمد شاہوانی،ارباب عبدالقادر کاسی، سید خان محمد چشتی کا دیگر قبائل کے عمائدین کے ہمراہ مزید کہنا تھا کہ ہم اہلیان و زمینداران کوئٹہ کے مضافات میں انگریزوں کی آمد سے پہلے اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں پر آباد ہیں اور حدود ملکیت کا تعین پاکستان بننے سے بہت پہلے ہوا ہے اور ریونیو ریکارڈ میں تمام تفصیلات درج ہیں۔

1989ء میں نواب اکبر خان بگٹی کے دور حکومت میں اُن کے اردگرد کچھ بااثر لوگ تھے جنہوں نے اپنے آپ کو بغیر زمین کے افراد ظاہر کرکے تکتو سرہ غوڑگئی میں بازئی قبائل کی بلا پیمودہ زمین کی الاٹمنٹ شروع کی جس کے ساتھ ساتھ667ایکڑQDA کے نام برائے تکتو ہاؤسنگ اسکیم لیز پر دی گئی ۔

جبQDA اور دوسرے الاٹیز زمین پر قبضے کیلئے آئے تو بازئی قبائل پہاڑ پر چڑھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور قبائلی مزاحمت شروع کی جس کے نتیجے میں اُس وقت کی حکومت نے ایک کمیٹی بنائی اُس کمیٹی نے متفقہ فیصلے سے موضع سرہ غوڑ گئی اور ضلع کوئٹہ میں بلا پیمودہ زمین سرکار کی نہیں بلکہ قبائل اور زمینداران کی ملکیت قرار دی اور گورنمنٹ نے اُس وقت تمام الاٹمنٹ اور پوری سیٹلمنٹ کے عمل اور کارروائیوں کو منسوخ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب25 سال بعدQDA نے پھر تکتو سٹی ہاؤسنگ سکیم کے نام سے اعلان کیا ہے تمام کارروائی اور تحریری ثبوتوں کی موجودگی میں یہ زمین قبائل کی ملکیت ہے QDA کی سرہ غوڑ گئی میں کوئی زمین نہیں ہے QDA نے کینسل شدہ ریکارڈ پر سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اس میں مخصوص افراد خاندانوں اور قبیلے کا مفاد وابستہ ہے جس انتقال یا خسرہ نمبات کی باتQDA کررہی ہے وہ منسوخ شدہ ہے۔ 

بازئی کمیٹی سرہ غوڑگئی نے مقامی قبائل کے پلیٹ فارم سے حکومت، عدلیہ اور سیاسی پارٹیوں کے تمام ذمہ دارافراد اور اداروں کو وقت سے پہلے آگاہ کردیا تھا اور تحریری طور پر ڈائریکٹر جنرل کیو ڈی اے ، وزیراعلیٰ بلوچستان، کمانڈر سدرن کمانڈر اور تمام اداروں حتیٰ کہ سینٹ کے چیئرمین کی قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ اور ارکان کو بھی تحریری طور پر تمام ثبوت فراہم کئے گئے ہیں ۔

عوام تکتو سٹی ہاؤسنگ سکیم میں دلچسپی لینے سے گریز کریں اپنی رقم ضائع نہ کریں بازئی قبائل کسی صورت اپنی زمین کسی کے حوالے نہیں کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیو ڈی اے زرغون ہاؤسنگ اسکیم کی زمین بھی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہے ۔

حکومت بلوچستان اور ریونیو بورڈ آف بلوچستان کے مختلف نوٹیفکیشن، آرڈرز اور تحقیقاتی رپورٹوں کے نتیجے میں جاری ہونے والے احکامات سے واضح ہے کہ زرغون ہاؤسنگ اسکیم بھی غیر قانونی ہے اس کے بارے میں ریونیو بورڈ بلوچستان کی ہدایات پر باقاعدہ کلکٹر؍ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی عدالت میں کیس داخل ہے ۔

زرغون ہاؤسنگ سکیم کے اندر جو زمین قبرستان کیلئے مختص کی گئی تھی اس کو سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر اپنے منظور نظر افراد کو نوازنے کیلئے فروخت کیا گیا مخصوص خاندانوں اور افراد کو فائدہ پہنچانے کیلئے زرغون ہاؤسنگ اسکیم کے قبرستان والی زمین کو بیج کر کیو ڈی اے کا مالی خسارہ پورا کیا گیا جس کو موجودہ ڈی جی کیو ڈی اے ایک شاندار کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بازئی قبائل اپنی زمین کے دفاع کیلئے سیاسی، قبائلی اور عدالتی دفاع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقامی قبائل بالخصوص بازئی قبائل سرہ غوڑگئی کے ساتھ تعاون کریں۔ قبائل کے تحفظات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب بننے کا بجائے مخصوص افراد اور خاندانوں کے عزائم کو ناکام بنائیں۔