|

وقتِ اشاعت :   January 23 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر پولیس نے پہلی بار کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

پولیس تھانوں میں کوائف جمع نہ کرانے والے دس کرایہ داروں ،مکان مالکان اور پراپرٹی ڈیلرز کو گرفتارکرکے چھ مقدمات درج کرلئے۔ ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ نصیب اللہ خان کا کہنا ہے کہ شہر کے 36ہزار میں سے 18ہزارکرایہ کے گھروں اور عمارتوں کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔

باقی کرایہ داروں، مکان مالکان اور پراپرٹی ڈیلرز نے رجسٹریشن نہ کرائی تو ان کیخلاف قانونی کارروائی کرینگے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنیوالے کو جرمانہ اور ایک سال تک قید ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ پولیس نے اگست 2015ء میں بلوچستان اسمبلی سے پاس ہونے والے بلوچستان رسٹریکشنز آف رینٹڈڈ بلڈنگ (سیکورٹی) یعنی بلوچستان کرایہ داری سیکورٹی ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

اس قانون کے تحت عمارت کے مالک پر لازم ہوگا کہ وہ کوئی بھی عمارت، دکان ،فلیٹ یا مکان کرایے پر دینے سے قبل کرایہ دار کے ساتھ تحریری معاہدہ کرے گا اور معاہدے کی تصدیق شدہ کاپی کے ساتھ ساتھ پولیس یا لیویز کی جانب سے جاری کردہ فارم میں کرایہ دار کے مکمل کوائف اور مکان میں رہائش پذیرن 14سال سے بڑی عمر کے افراد کی تفصیلات متعلقہ تھانے میں جمع کرائیے گا۔

پولیس یا لیویز رجسٹریشن کرانیوالے مکان مالک، کرایہ دار اور پراپرٹی ڈیلر کو باقاعدہ رسید فراہم کرے گی۔ تمام کرایہ داروں کے کوائف پر مشتمل ایک سینٹرل ڈیٹا بیس بنایا جائیگا۔ رجسٹریشن نہ کرانے والے مکان مالک، کرایہ دار اور پراپرٹی ڈیلرز کو ایک سال تک قید ، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

اگرچہ اس قانون کا اطلاق قبائلی علاقوں کے علاوہ پورے بلوچستان پر ہوتا ہے تاہم ڈھائی سال سے زائد گزرنے کے باوجود اس قانون پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ اب کوئٹہ میں پولیس نے کرایہ داری قانون پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

اس قانون کی دفعہ تین اور دس کے تحت پہلے دو مقدمات بیس جنوری کو کوئٹہ کے پولیس تھانہ سریاب میں ایس ایچ او عتیق الرحمان کی مدعیت میں مکان مالک سید کلیم اللہ کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ سید کلیم اللہ پر الزام ہے کہ انہوں نے کشمیرآباد قمبرانی روڈ پر واقع اپنے تین مکانات کرایے پر دیئے لیکن کرایہ دار کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا اور نہ ہی کرایہ دار کے کوائف تھانے میں جمع کرائے ۔

پولیس کے مطابق تھانہ سریاب میں بیس جنوری کو ہی دو مزید مقدمات بھی درج کئے گئے۔ مجموعی طور پر چاروں مقدمات میں مکان مالکان اور کرایہ داروں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کرکے ان کا چار روزہ ریمانڈ حاصل کیا گیا جبکہ مقدمات میں نامزد ایک پراپرٹی ڈیلر مفرور ہے۔

اس قانون کے تحت پانچواں مقدمہ تھانہ جناح ٹاؤن میں درج کرکے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم فیض احمد نے مجیب الرحمان کو اپنا مکان کرایہ پر دے رکھا تھا۔ پولیس کی جانب سے بار بار آگاہ کرنے کے باوجود کرایہ دار کے کوائف تھانے میں جمع نہ کرانے پر مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کیا گیا۔ چھٹا مقدمہ تھانہ پشتون آباد میں درج کیاگیا ہے۔

ایس ایچ او احسان اللہ مروت کے مطابق کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر مکان مالک اور دو کرایہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایس ایس پی آپریشن نصیب اللہ خان کے مطابق قانون پر عملدرآمد سے قبل پولیس نے آٹھ ماہ تک شہر کے تمام بائیس تھانوں کی حدود میں آگاہی مہم چلائی۔

پولیس کی ٹیمیں تشکیل دے کر گلی گلی محلے محلے جاکر سروے کیا گیا۔شہر کے 22میں سے 15پولیس تھانوں نے سروے کا کام مکمل کرکے 36ہزار210کرایے کی عمارتوں کی نشاندہی کیں ۔ پولیس ٹیموں نے ان عمارتوں میں رہائش پذیر کرایہ داروں اور ان کے مالکان اور پراپرئی ڈیلرز کو قانون سے آگاہی دینے کے ساتھ ساتھ فارمز بھی فراہم کئے۔انہوں نے بتایا کہ 36ہزار میں سے 18ہزار804 کرایے کی عمارتوں کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔

رجسٹریشن کرانے اور نہ کرانے والوں کی تعداد میں بہت فرق ہے اب بھی بہت سے لوگ رجسٹریشن کرانے میں سنجیدہ نہیں اس لئے پولیس نے رجسٹریشن نہ کرانے والے باقی کرایہ کے عمارتوں کے مالکان، کرایہ داروں اور پراپرٹی ڈیلرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں گرفتاری اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایس ایس پی نصیب اللہ نے مزید بتایا کہ کرایہ داری ایکٹ پرعملدرآمد کا بڑا مقصد کرایے کی عمارتوں میں رہائش پذیر تمام افراد کے کوئف جمع کرنا ہے کیونکہ دہشتگرد اور جرائم پیشہ عناصر اکثر کرایہ کی عمارتوں میں رہ کر وارداتیں کرتے ہیں۔ اگر سارے کرایے داروں کے کوائف پولیس کو حاصل ہوجائے تو دہشتگردی اور جرائم کی وارداتوں پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔

اس عمل سے دہشتگردوں کیلئے کام کرنا بہت مشکل ہوجائیگا اور شہر میں امن وامان میں بہتری آئے گی۔ اس کا فائدہ خود کوئٹہ کے شہریوں کو ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہری اس قانون سے متعلق معلومات یا رجسٹریشن فارم اپنے متعلقہ تھانے سے حاصل کرسکتے ہیں۔