|

وقتِ اشاعت :   January 27 – 2018

کوئٹہ:  بلوچستان کی بلوچ پشتون قیادت مذہبی جماعت اور طلباء تنظیموں کے رہنماؤں نے لاہور یونیورسٹی میں بلوچستان کے طالب علموں پر اسلامی جمعیت طلباء کے وحشیانہ تشدد اور پنجاب حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کے جانبدارنہ رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلباء پر تشدد کا واقعہ اس فکر کی کڑی ہے جس سے 1970ء میں ملک کوایک عظیم سانحہ سے دوچار ہونا پڑا۔

دہشتگردی کے شکار طلباء پر پنجاب پولیس کی جانب سے دہشتگردی کے مقدمات قائم کرکے ان کی اغواء نما گرفتاری جیلوں اور تھانوں میں قید کرکے پسماندہ صوبے کے عوام کو جو تاثر دیا گیا یقیناًاس کے مستقبل میں انتہائی خطرنک نتائج برآمد ہونگے۔

مذہبی انتہائی پسند تنظیم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا 1970 ء کے عمل کو مسلسل بلوچستان کے بلوچ اور پشتون طلباء پر دوہرا رہی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے واقعہ کی بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتیں مذمت کرتے ہوئے انتہا پسند گروہ کے اس عمل سے نفرت کا اظہار کرتی ہیں ۔

کوئٹہ پریس کلب میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی نظام الدین کاکڑ، رشید ناصر، بی این پی عوامی کے واحد بلوچ، آصف بلوچ، جمعیت نظریاتی کے قاری مہر اللہ،جمہوری وطن پارٹی کے شمس کرد، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رضا وکیل، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے منیر جالب، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے انعام کاکڑ، پشتو کونسل کے عمران کاکڑ، پاکستان ورکرز پارٹی کے جلال کاکڑ کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں بار بار طلباء پر تشدد کے واقعات کو دوہرانے کے پیچھے وہ ذہنت کار فرما ہے جو بلوچستان کے طلباء کو تعلیم سے محروم رکھ کر یہاں کے وسائل پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔

دہشتگردی کا نشانہ بننے والے طلباء کو گرفتار اور انہی پر دہشتگردی کے مقدمات درج کرکے بلوچستان کے 200 طلباء کو پنجاب پولیس نے تھانوں اور جیلوں میں قید کررکھا ہے ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کے ہاتھوں گرفتار طلباء میں سے کچھ کو ماورائے آئین ذاتی عقوبت خانوں میں رکھا گیا ہے جن تک ہمارے وکلاء کو رسائی نہیں دی جارہی ہے ۔ وکلاء کی ٹیم کو کبھی ایک اور کبھی دوسرے تھانے اور جیل کا چکر لگوایا جارہا ہے ۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاق کی نمائندگی کے دعویداروں کی ناک کے نیچے قید طلباء کو گزشتہ چارروز سے پینے کا پانی تک فراہم نہیں کیا گیا نہ ہی ان کے زخموں کی مرہم پٹی کی گئی ہے ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں نے گرفتار طلباء کی باعزت رہائی کیلئے سینئر وکلاء پر مشتمل لیگل ایکٹ تشکیل دیا ہے جو گزشتہ روز سے تمام تھانوں اورجیلوں میں قید طلباء کی رہائی کے لیے سرگرم عمل ہے ۔

ہمارے وکلاء کی ٹیم کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصم جہانگیر کی جانب سے مکمل تعاون حاصل ہے ۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنا دفتر ہمارے وکلاء کے حوالے کیا ہے تاکہ تھانوں اور جیلوں میں قید طلباء کو وہاں لاکر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں دوبارہ تعلیمی اداروں میں بھیجا جائے ۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جس طرح تعلیم یافتہ طبقہ وکلاء رہنماؤں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اساتذہ کی ٹارگٹ کلنگ کرکے ہمارا قیمتی سرمایہ ضائع کیا گیا پنجاب یونیورسٹی واقعہ کو یہاں کی سیاسی جماعتیں اسی دہشتگردی کی کھڑی سمجھتے ہوئے پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ پنجاب حکومت گرفتار طلباء پر قائم کئے گئے۔

مقدمات کو واپس لیتے ہوئے ان کی باعزت رہائی کو یقینی بناتے ہوئے مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ پسماندہ صوبے کے بچے وہاں تعلیم حاصل کرکے ملک اور صوبے کی خدمت میں پیش پیش رہیں۔