کوئٹہ: کوئٹہ کے کلی اسماعیل میں تیرہ سالہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کا معمہ حل ہوگیا۔ بہن کا قاتل بھائی نکلا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اعتراف جرم بھی کرلیا۔
بڑے بھائی نے گرفتار بھائی پر پولیس کے الزام کو جھوٹا قرار دیا ہے ۔مقتولہ آبائی علاقے ملتان میں سپردخاک کردیا گیا ۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل کوئٹہ پولیس عبدالرزاق چیمہ کے مطابق تیرہ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے بعد قتل کرنے والا ملزم بچی کا بھائی کامران ہے جسے متضاد بیانات کے بعد شک کی بنیاد پر گذشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں ہی زیادتی کی کوشش اور قتل کا اعتراف کرلیا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈی این اے کے لیے نمونے لے لیا گیا ہے جسے دیگر شواہد کے ساتھ فرانزک سائنس لیبارٹری لاہور بھجوایا جائے گا۔ دوسری جانب تحقیقات کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی۔ گذشتہ روز وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو واقعے میں ملوث ملزمان کو 2 دن میں گرفتار کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ واضح رہے کہ کوئٹہ کے علاقے کلی اسماعیل کی رہائشی 13 سالہ بچی کو اتوار کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
قتل کا مقدمہ اس کے بڑے بھائی محمود کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ جناح ٹاؤن میں درج کرلیاگیا۔ مقدمے میں صرف قتل کی دفعات لگائی گئی ہے ۔
مقدمے میں زیادتی کی دفعہ نہیں لگائی گئی اس کی وجہ کیس کی تفتیش سے باخبر ایک پولیس آفیسر نے یہ بتائی ہے کہ ملزم کامران نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے زیادتی کی کوشش کی اور چیخنے چلانے پر بہن کا گلہ گھونٹ کر قتل کردیا
تاہم ملزم کا کہنا ہے کہ وہ زیادتی کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تاہم بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پولیس سرجن ڈاکٹر نور بلوچ کا کہنا ہے کہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد تشدد کرکے قتل کیاگیا ہے۔
پولیس کے مطابق پولیس سرجن نے اب تک پوسٹمارٹم کی تحریری رپورٹ نہیں دی ۔یاد رہے کہ مقتول بچی کے والد کا انتقال ہوچکا ہے جبکہ والدہ رشتہ داروں کے پاس پنجاب گئی ہوئی تھی۔ طیبہ کے دو بڑے بھائی اور دو بڑی بہنیں ہیں۔بہنوں میں میں سے ایک طلاق یافتہ ہے جبکہ دوسری گھر پر مدرسہ چلاتی ہے۔
وقوعہ کے طاقت طلاق یافتہ بہن ہیومیوپیتھک کورس کی غرض سے گھر سے باہر تھی جبکہ دوسری بہن والدہ کے ہمراہ ملتان گئی ہوئی تھی۔ بھائیوں میں بڑا محمود ماربل کا کام کرتا ہے اور واقعہ کے وقت کام کی غرض سے باہر تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وقوعہ کے وقت بیس سے بائیس سالہ بھائی کامران اور تیرہ سالہ طیبہ گھر پر اکیلی تھی۔ ملزم کے بڑے بھائی محمود کا کہنا ہے کہ واقعہ میں اس کا بھائی کامران ملوث نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ وقوعہ کے وقت گھر پر موجود ہی نہیں تھا۔
گھر کے قریب گلی میں چوبیس گھنٹے منشیات فروخت ہوتی رہتی ہے اور علاقہ منشیات فروشوں اور منشیات کے عادی افراد کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ اس واقعہ میں کوئی نشے کا عادی شخص یا منشیات فروش ملوث ہوسکتا ہے۔
دریں اثناء طیبہ کی میت ضروری کارروائی کے بعد پنجاب کے علاقے ملتان کے قریب آبائی گاؤں پہنچادی گئی جہاں اس کی تدفین کردی گئی۔