کوئٹہ: کوئٹہ کی احتساب عدالت نے بلوچستان میگا کرپشن کیس میں گرفتار ٹھیکیدار کی چھیانوے کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
احتساب عدالت کوئٹہ Iعبدالمجید ناصر نے گرفتار ٹھیکیدار سہیل مجید کی درخواست پر سماعت کی ۔
اس دوران نیب حکام نے بتایا کہ نیب نے ملزم کی چھیانوے کروڑ روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی ہے۔ ملزم نے پچاس کروڑ روپے جمع کرادیئے ہیں جبکہ چھیالیس کروڑ روپے باقی ہیں۔
ملزم نے عدالت سے استدعا کی کہ باقی چھیالیس کروڑ روپے جمع کرانے کیلئے دو ماہ کی مہلت دی جائے۔ ملزم نے چھیالیس کروڑ روپے کے عیوض اراضی گروی رکھنے کی استدعا کی۔
سماعت کے مقع پر اراضی کے تیرہ مالکان بھی پیش ہوئے اور عدالت میں حلف نامے اور شناختی کارڈ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی زمینیں گروی رکھنے کیلئے رضامند ہیں۔
عدالت نے زمین کے مالکان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے مطلوبہ وقت میں رقم جمع نہ کرائی تو نہ صرف زمیں بحق سرکار ضبط کرلی جائیں گی بلکہ آپ جیل بھی جائیں گے۔
عدالت نے درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرکے سماعت آج جمعہ تک کیلئے ملتوی کردی۔آج کی سماعت میں فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ سہیل مجید پر الزام ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے محکمہ بلدیات کے ترقیاتی فنڈز میں سابق مشیر خزانہ خالد لانگو، سابق سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق احمد رئیسانی اور دیگر ملزمان کے ہمراہ اربوں روپے کا خورد برد کیا۔