|

وقتِ اشاعت :   February 23 – 2018

کوئٹہ: کوئٹہ میں سیشن کورٹ کے باہر فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس نے فائرنگ کے الزام میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر کے محافظ کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق جمعرات کو دوپہر کے وقت پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر علی مدد جتک عدالت میں پیشی کے بعد باہر نکل رہے تھے۔

اس دوران علی مدد جتک کے محافظوں اور مخالف گروہ دشتی خان جتک کے محافظوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ علی مدد جتک کے ایک محافظ نے ہوائی فائرنگ کی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا اور عدالت کے باہر بھگدڑ مچ گئی۔

عدالت کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر صورتحال پر قابو پالیا اور فائرنگ کے الزام میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر کے تین محافظوں کو تین کلاشنکوفوں سمیت گرفتار کرلیا۔ علی مدد جتک نے فائرنگ کا الزام اپنے مخالف گروپ پر عائد کیا ہے۔

تاہم پولیس نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ تلخ کلامی کے بعد جب دشتی خان جتک اور ان کے محافظ پچاس سے ساٹھ میٹر کے فاصلے پر کھڑے ہوئے تو علی مدد جتک کے ڈرائیورنے ہوائی فائرنگ کی جسے گرفتار کرلیا گیا جبکہ باقی دو محافظوں کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا۔

یاد رہے کہ 2013ء میں علی مدد جتک پر اس وقت فائرنگ کی گئی تھی جب وہ عید الفطر کے دن کوئٹہ کے علاقے غوث آباد میں فاروقیہ مسجد کے باہر عید کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔

فائرنگ کے نتیجے میں علی مدد جتک بچ گئے تھے تاہم تیرہ نمازی شہید اور اٹھارہ زخمی ہوگئے تھے۔ فائرنگ کے الزام میں علی مدد جتک کے مخالف دشتی خان جتک کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

جمعرات کو اس کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت ون میں ہورہی تھی۔ جج داؤد خان ناصر کے رو برو علی مدد جتک اور دشتی خان جتک اور ان کے وکلاء4 پیش ہوئے۔

علی مددجتک نے مدعی مقدمہ کی حیثیت سے اپنا بیان قلمبند کرایا اور عدالت کو بتایا کہ وہ 2014ء میں دشتی خان جتک کے خلاف دیئے گئے عینی شاہد کی حیثیت سے دیئے گئے ۔

بیان پر اب بھی قائم ہیں۔ جس کے بعد کیس کی سماعت بارہ مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ سماعت کے بعد پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک باہر نکل رہے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

واقعہ کے بعد علی مدد جتک نے سیشن کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پر فائرنگ انہی دہشتگردوں نے کی جنہوں نے 2013ء میں عیدگاہ پر فائرنگ کرکے بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک گولی ان کی گاڑی کو بھی لگی تاہم وہ ، ان کے وکیل اور محافظ سبھی محفوظ رہے۔

علی مدد جتک نے کہا کہ سیشن کورٹ کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں اسے دے کر سب حقیقت سامنے آجائے گی۔ فائرنگ بھی ہم پر کی گئی اور محافظ بھی ہمارے گرفتار کئے گئے۔ یہاں مظلوموں کے خلاف یہ ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو بھی دہشتگردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ ہم بھی دہشتگردوں سے ڈرنے والے نہیں۔ آخری دم تک ان کے خلاف لڑتے رہیں گے۔