|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کے حلقہ انتخاب ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سیدوران زچگی خاتون بچے سمیت جاں بحق ہوگئی۔ رواں سال اب تک ضلع میں چار مائیں بچوں کے جنم دینے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلی جاچکی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ بگٹی سے 45کلومیٹردورعلاقے بی لوٹی سے حاملہ خاتون کو تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لایا گیا۔ لواحقین کے مطابق تین گھنٹے کے سفر کے بعد خاتون کو ہسپتال پہنچایا جہاں ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کیا لیکن کوئی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے خاتون اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں جاں بحق ہوگئے۔ 

یاد رہے کہ 3لاکھ سے زائد آبادی والے اور ملک کے بیشتر علاقوں کو گیس فراہم کرنے کیلئے معروف ضلع میں کوئی سرکاری لیڈی ڈاکٹر نہیں اس لئے حاملہ خواتین کوطبی امداد کیلئے200 کلومیٹر دور پنجاب اور سندھ کے قریبی اضلاع کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے اس دوران راستے میں کئی خواتین اپنی جان کی بازی ہارجاتی ہیں۔ 

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈاکٹراعظم نے خاتون کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال میں کوئی خاتون ڈاکٹر موجود نہیں ، قبائلی معاشرہ ہونے کی وجہ سے مرد حاملہ خواتین کا اس مشکل صورتحال میں علاج نہیں کرسکتے اس لئے خاتون نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ تین ماہ میں دوران زچگی یہ دوسری خاتون کی موت ہے۔ ڈاکٹر اعظم نے مزید بتایا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹرکی 7 آسامیاں کئی سالوں سے خالی ہیں۔ ہسپتال میں آپریشن تھیٹر ہے اور نہ ہی انستیزیا کا کوئی ڈاکٹر۔ خواتین ڈاکٹرز کیلئے رہائشی کوارٹرز بھی نہیں۔ آپریشن تھیٹر، انستیزیا کے ڈاکٹر اور رہائشی کوارٹرز کے انتظام کے بغیر خواتین ڈاکٹر کی موجودگی کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ 1989ء4 میں بننے والے رورل ہیلتھ سینٹر کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تو قرار دیا گیا لیکن ہسپتال کو اب تک اپ گریڈ نہیں کیا جاسکا ہے۔ بارہ بستروں پر مشتمل اس ہسپتال میں آپریشن تھیٹر اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تشویشناک مریضوں کو پنجاب کے قریبی علاقوں کو روانہ کردیا جاتا ہے۔ 

ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ علاقے کے ایم پی اے ، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کو زمینی حقائق اور صورتحال سے آگاہ کیا جاچکا ہے۔ علاقے کے ایم پی اے نے خواتین ڈاکٹرز کیلئے بیچلر ہاسٹل تعمیر کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 

یاد رہے کہ پاکستان میں دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح سب سے زیادہ بلوچستان میں ہے۔ یہاں ہر ایک لاکھ میں سے 785 خواتین دوران زچگی حمل سے متعلق پیچیدگیوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ باقی ملک میں یہ شرح صرف 272 ہے۔