|

وقتِ اشاعت :   March 27 – 2018

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کے خلاف دائر آئنی درخواست پر حکومت بلوچستان نے جواب داخل کرانے کیلئے عدالت سے مہلت مانگ لی۔

وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کے خلاف منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے آئنی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل بینچ نے کی۔

درخواست گزار نے اپنی آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کے 65رکنی ایوان میں اکثریت حاصل نہیں، عدالت انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کا حکم صادر کریں۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور درخواست گزار ایڈووکیٹ منیر احمد کاکڑ عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزارمنیراحمدکاکڑ نے عدالت کو بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کیلئے موجودہ اپوزیشن لیڈراور سابقہ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے36منتخب نمائندوں کی حمایت کا دعویٰ کیا جارہاہے ایسے میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے پاس ایوان میں اکثریت ہی نہیں بلکہ اس سلسلے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فل بینچ نے 1989ء میں وزیرمیرظفراللہ جمالی کے خلاف انور درانی کی جانب سے دائر مقدمہ کافیصلہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے لئے اکثریت میں ہونا لازم قراردیاہے۔

اس لئے عدالت گورنر کوحکم جاری کریں کہ وہ اسمبلی اجلاس بلا کر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کرے بلکہ 15مارچ کے بعد وزیراعلیٰ کے تمام احکامات کو غیر قانی قراردے کرانہیں کام سے روکاجائے ۔

اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مہلت دینے کی استدعا کی جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے درخواست کی سماعت دو اپریل تک ملتوی کر دی۔

دریں اثناء بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عبدالرحیم زیارتوال کو نوٹس کرتے ہوئے اگلی سماعت پر طلب کرلیا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس محمدنورمسکانزئی اور جسٹس جناب جسٹس ظہیرالدین کاکڑ پرمشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولاناعبدالواسع کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست کی سماعت کی۔

مولانا عبدالواسع نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عبدالرحیم زیارتوال کی قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے تقرری خلاف آئین ہے ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ اورجان بلیدی ایڈووکیٹ پیش ہوئے ۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بھی تھے ۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ موجودہ اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کو بھی نوٹس جاری کرکے طلب کرے ۔ عدالت نے عبدالرحیم یارتوال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست کی سماعت دو اپریل تک ملتوی کردی۔