کوئٹہ: بلوچستان میں مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ ق کے منحرف اراکین اور آزاد ارکان اسمبلی نے ملکر ’’بلوچستان عوامی پارٹی ‘‘کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو اور صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سمیت دس سے زائد صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کی موجودگی میں نئی جماعت کے قیام کا اعلان جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹیریٹ میں سابق سینیٹر سعید احمد ہاشمی ،پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر انوار الحق ، صوبائی ترجمان سابق وزیرداخلہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی اور سینیٹر کہدہ بابر نے مشترکہ کانفرنس میں کیا۔
انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ یہ پارٹی بلوچستان کی سیاسی ایلیٹ اور عوام کا امتزاج ہے۔ یہ ایک ایسا سیاسی گلدستہ بننے جارہا ہے جس میں یوسف عزیزمگسی، میر غوث بخش بزنجو، خان آف قلات اور نواب خیر بخش مری سے جڑے ہوئے لوگ شامل ہوں گے۔یہ جماعت بلوچستان میں وفاق کے لیے ایک حقیقی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔
اب بلوچستان سے بلیک میلنگ کی آواز نہیں بلکہ ایک ایسی صدا ابھرے گی جو کہ ایک بچے کی اپنے ماں کی طرف یا خاندان کے سربراہ کی طرف جاتی ہے۔سعید احمد ہاشمی نے کہا کہ ہم اس فورم سے نہ صرف آئندہ کا الیکشن لڑیں گے بلکہ اسی فورم سے بلوچستان کے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔
ایک ماہ کے اندر پارٹی کے جنرل کونسل میں عہدیداروں کا انتخاب کرکے پارٹی کی الیکشن کمیشن سے رجسٹریشن کرائی جائے گی۔ پریس کانفرنس میں نومنتخب آزاد سینیٹر ثناء جمالی، سینیٹر نصیب اللہ بازئی ، صوبائی وزراء پرنس احمد علی ،امان اللہ نوتیزئی، طاہر محمود خان، ماجد ابڑو، وزیراعلیٰ کی مشیر برائے خزانہ رقیہ سعید ہاشمی، خالد لانگو کے بھائی وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خوراک میر ضیاء لانگو، ارکان صوبائی اسمبلی جان محمد جمالی، محمد خان لہڑی، اظہار حسین کھوسہ، انتیا عرفان، کشور جتک، سابق صوبائی وزیر اور حال ہی میں نا اہل قرار پائے گئے پشتونخوامیپ کے سابق رکن صوبائی اسمبلی منظور احمد کاکڑ، سابق گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کی اہلیہ سابق رکن بلوچستان اسمبلی شمع پرین مگسی ،سابق صوبائی وزراء میر فائق جمالی اورسلیم کھوسہ ،سابق رکن صوبائی اسمبلی میر عبدالغفور لہڑی بھی موجود تھے۔
لیکن اس پریس کانفرنس میں انہوں نے جماعت میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کی پریس کانفرنس میں موجودگی کا مقصد ہی اس بات تاثر دینا ہے کہ یہ تمام لوگ جلد اس جماعت میں شمولیت کرینگے۔
سعید ہاشمی نے انوار الحق کاکڑ، ثناء جمالی ، احمد خان خلجی، نصیب اللہ بازئی، کہدہ بابر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے جو آزاد سینیٹر کامیاب ہوگئے ہیں وہ اس پارٹی کا حصہ ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ اور ان کے کابینہ کے اراکین کی یہاں موجودگی اور ان کی خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھا جائے۔سعید احمد ہاشمی بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن ، سابق صوبائی وزیر رہ چکے ہیں اور ان کا تعلق مسلم لیگ ق سے تھا۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر نواب جنگیز مری کے صاحبزادے نوابزادہ پژیر مری،مسلم لیگ ن کے رکن بلوچستان اسمبلی سردار در محمد ناصر کے صاحبزادہ سردار زادہ جمیل ناصر ،سابق نگراں وزیراعلیٰ رکن اسمبلی سردار صالح بھوتانی کے صاحبزادے شہزاد بھوتانی ، صوبائی وزیر سردار سرفراز چاکر خان ڈومکی کے صاحبزادے بجار خان ڈومکی ،آصف خان سنجرانی کے صاحبزادے وزیراعلیٰ کے معاون اعجاز سنجرانی ، جمعیت علمائے اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران کے صاحبزادے سردارزادہ اورنگزیب کھیتران ، رکن بلوچستان اسمبلی رقیہ ہاشمی اور سعید ہاشمی کے بیٹے حسنین ہاشمی، میر عطاء اللہ بلیدی، محمد اشرف ، دنیش کمار، ایس آر ناصر، سلیم کھوسہ،میر شاکر حسین کھوسہ اور دیگر ہمارے ساتھ موجود ہیں ۔
اس سے قبل سعید احمد ہاشمی نے پارٹی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے بیشتر کا تعلق مرکزی جماعتوں سے کئی دہائیوں سے رہا ہے۔ مختلف ادوار میں ایسے لمحے آئے کہ ہم ساتھیوں نے یہ سوچھا کہ ہمیں اپنی نئی سیاسی جماعت تشکیل دینی چاہیے اور اس فورم سے ہم بلوچستان کے حقوق کیلئے جدوجہد کریں۔ پچھلے چند ماہ کے بلوچستان کے رو پذیر ہونیوالے حالیہ سیاسی واقعات نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم اس فیصلے کو حتمی شکل دیدیں۔
کافی مشاورت کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینی چاہیے اور اس فورم سے نہ صرف ہم اگلا انتخاب لڑیں گے بلکہ بلوچستان کے آئینی حقوق کیلئے بھی جدوجہد کریں گے۔ کافی مشاورت کے بعد نوجوانوں کی رائے کو زیادہ تائید دیتے ہوئے اس نئے جماعت کا نام بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی) رکھا گیا ہے۔ پارٹی کے آئین اور منشور پر ہمارے کچھ ساتھی کام کررہے ہیں۔
جنرل کونسل کا اجلاس اپریل کے آخر یا مئی کے شروع میں بلایا جائیگا جس میں پارٹی آئین اور منشور کی توثیق کی جائے گی اور عہدیداروں کا انتخاب کرکے الیکشن کمیشن سے رجسٹریشن کرائی جائے گی۔
اتفاق رائے سے عبوری طور پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ مرکزی ترجمان جبکہ صوبائی سطح پر سابق صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی پارٹی کے ترجمان ہوں گے۔
سعید ہاشمی نے کہا کہ ہمارے خاندان کا تعلق تیراسی سال سے مسلم لیگ سے رہا ہے۔ آج اگر مسلم لیگ کی سوچ سے جدا نہیں ہورہے۔ ایک نئے نام کے ساتھ سوچ بنیادی طور پر مسلم لیگ کی ہے۔
ایک مضبوط ملک اور ایک قوم کے نعرے کو لیکر اس پلیٹ فارم پرچلیں گے۔ ہم نے یہ تلخ فیصلہ کافی تاخیر کے بعد اب اس لئے کیا کہ ہمیں کئی دفعہ احساس ہوا کہ دوسرے صوبوں تعلق رکھنے والے مرکزی قیادت شاہد بلوچستان کو ٹھیک طور پر سمجھے نہیں۔
کچھ عرصہ اور گزرا تو دوستوں کو احساس ہوا کہ انہیں بلوچستان کو سمجھنے کا شوق ہی نہیں اس لئے اب ہم نے نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور اب ان کے کندھے پر بوجھ ڈال رہے ہیں کہ ہمارا بیانیہ لیکر نہ صرف پارلیمنٹ میں جائیں اور دنیا کے سامنے بھی جائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ نوجوان قیادت آئندہ تبدیلی لائیں گے۔
پریس کانفرنس میں نواب ذوالفقار علی مگسی کی عدم موجودگی سے متعلق سعید احمد ہاشمی نے شمع پرین مگسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ نواب صاحب کی سب سے پیاری نشانی یہاں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گروپ کے بلوچستان سے نومنتخب آزاد سینیٹر بھی اس نئی سیاسی جماعت کا حصہ بنیں گے اور اس پریس کانفرنس میں موجود صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی بھی بشمول وزیراعلیٰ بلوچستان کے ان کی خاموشی ہی ہے ان کی رضا مندی ہے۔
اس موقع پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ سعید احمد ہاشمی، جان جمالی، بیگم پروین مگسی اور دیگر سینئر سیاستدان آج ہمارے اس قافلے میں شامل ہوئے ہیں۔ آج بلوچستان میں خوشگوار ابتداء کی ہے۔ ہمارے اکابرین نے یہاں طویل جدوجہد کی ہے۔
ہم نے ایسا خوبصورت سیاسی گلدستہ بننے جارہا ہے جس میں یوسف عزیز مگسی، میر غوث بخش بزنجو، خان آف قلات، نواب خیر بخش مری اور وہ زعماء جو بلوچستان کی سیاست میں ایک گہری نظر رکھتے تھے اور بہت بڑا کردار رکھتے تھے ان تمام سے جڑے ہوئے لوگ آج ایک نئے پلیٹ فارم پر سامنے آرہے ہیں اور اس پلیٹ فارم میں ان خواص کے ساتھ بلوچستان کے عوام اس کے سرخیل ہوں گے۔
بلوچستان کے آئینی حقوق کی لڑائی لڑیں گے۔ بلوچستان سے مضبوط وفاق کی آواز ہوگی۔ بلوچستان سے وفاق کے حقیقی شراکت دار کے طور پر سامنے آئیں گے۔
اب میرا خیال ہے کہ بلوچستان سے بلیک میلنگ سے آوازنہیں آئے گی بلکہ بلوچستان سے ایسی صدا ابھر کر آئے گی جو ایک بچے کی ماں کی طرف آتی ہے جو ایک گھرانے کے سربراہ کی طرف آتی ہے۔ ہم ایک بڑے گھر پاکستان کا حصہ ہے۔
پاکستان وہ گھر ہے جسے خاکم بدہن کسی نے توڑنے کی کوشش کی یا ہلانے کی کوشش کی تو سب سے پہلے صدا اور خون اور جان کا نذرانہ بلوچستان کے غیور عوام دینگے اور اس جنگ کو سیاسی طور پر بلوچستان عوامی پارٹی لے کر چلے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے لوگوں کے معاشی اور سیاسی حقوق کے حصول کا ایجنڈا سرفہرست ہوگا اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے چاہے مرکز میں کسی کی حکومت آئے ہم اس کا احترام کریں گے
لیکن اس احترام کے ساتھ بلوچستان کے عوام کے جائز حقوق ہیں چاہے وہ ہمارے چھ فیصد نوکریوں کا آئینی کوٹہ کے حوالے سے ہوں چاہے وہ کارپوریشن میں ہماری نمائندگی کے حوالے سے ہوچاہے وہ یہاں پر سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے ہوں۔
عوام کو ہر جگہ بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کی جنگ لڑتی ہوئی نظر آئے گی۔ امید ہے کہ ہم بلوچستان لوگوں کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔
سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ مرکز کی جماعتوں کے ساتھ ہمارا تجربہ یہ تھا کہ انہوں نے بلوچستان کو ہمیشہ ثانوی حیثیت دی، بلوچستان کو بد قسمتی سے برطانوی راج میں بھی بیک یارڈ کے طور پر سمجھا۔
آزادی کے بعد بھی صوبے کو اہمیت نہیں دی گئی اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پاس اپنا وفاق پرست سیاسی پلیٹ فارم نہیں تھا جس کا ادراک کرتے ہوئے ہم یہاں تک پہنچا۔
اگرچہ ہمارا یہ سفر بڑا طویل ہوا ہمیں بہت پہلے یہ کرنا چاہیے تھا لیکن دیر آید درست آید۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک مضبوط وفاق پرست سیاسی پلیٹ فارم وہ اپنی بات ضرور منوائے گا۔ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اس کی پہلی نشانی ہے۔
ٹکٹ کی تقسیم سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ابھی تک تجویز یہ ہے کہ ایک کونسل تشکیل دی جائے گی جس میں مختلف الخیال اور مختلف اضلاع اور ڈویڑن کے لوگ شامل ہوں گے جو درخواست کی جانچ پڑتال کے بعد میرٹ پر انتخابات میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کرینگے۔
اگر کسی خاندان کا میرٹ بنتا ہوا تو ہمیں کوئی خوف نہیں ہوگا ہم ضرور نہیں ٹکٹ دینگے اور اگر کسی خاندان سے ہٹ کر کسی کا حق بنتا ہو تو اس کیلئے بھی ضرور مواقع پیدا کرینگے۔ایک سوال کے جواب پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن اور کسی بھی صحت مند معاشرے کی نشانی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بلوچستان کے اندر جو بلوچ قوم پرست ،پشتون قوم پرست یا پھر وفاق پرستی کے حوالے سے اتحاد بنے ہیں اور پارٹیاں بنی ہیں وہ بھی توڑ پھوڑ کا شکار ہوئی ہیں اور مذہبی جماعتوں میں بھی گروہ بندی رہی ہیں اس طرح کا ایک طویل سیاسی قصہ ہے۔
ہم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ مستقبل میں نئی جماعت کسی توڑ پھوڑ کا شکار نہیں ہوگی لیکن کوشش ہماری ضرور ہوگی کہ پارٹی کو مضبوط رکھیں۔
اگر ہم نے اپنے سیاسی مقاصد واضح رکھیں جو کہ آج ہم نے ابتدائی طور پر بیان کئے ہیں اور اس کے ساتھ لوگوں کی کمٹمنٹ رہی تو وجہ سمجھ نہیں آتی کہ کیوں گروہ بندی ہوگی۔
قوم پرست جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے سے متعلق سوال پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے ہماری کوئی ضد نہیں۔
یہ پیمانہ اب ہم نے پاکستان اور بلوچستان کے عوام کے ہاتھ دے دیا ہے کہ اس بیانیے کے ساتھ اخلاص اِس گروہ کا ہے یا اْن گروہوں کا ہے۔ یہ فیصلہ اب بلوچستان کی عوام نے کرنا ہے۔ ہم نے نہیں کرنا۔
فلور کراسنگ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے کہیں پر فلور کراسنگ کی حمایت کی ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ شخصی آمریت اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی قیادت کے خلاف ضمیر کی آواز پر اگر کوئی رکن فیصلہ کرتا ہے تو اس کو غلط سمجھا جاتا ہے۔
ہماری واحد جمہوریت ہے جس میں بیک بینجر کا تصور ہی نہیں ہے حالانکہ دنیا کی تمام جمہوریتوں میں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو شاید پاکستان کی اجارہ داری سمجھ لی ہے۔
جمہوریہ ایک عالمی تصور ہے جو یورپ سے سفر کرتے ہوئے یہاں آیا ہے۔ ہم ان لوگوں کو ضرور دعوت دینگے جو اپنی اپنی پارٹیوں کے حوالے سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس بیانیے کے ساتھ وہ متفق نہیں ہے اور وہ ایک نئے بیانیے کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔
ہمارا نیا بیانیہ سامنے ہے۔ بلوچستان کی عوام یا بلوچستان میں جو الیکٹ ایبلز ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا بیانیہ درست ہے تو ہمارے کارروان کا حصہ بنیں۔
ایک سوال پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی اس وقت مبصر کی حیثیت سے ہمارے ساتھ بیٹھے ہیں اور انہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے ہی آگے کی سیاست کرینگے۔
اٹھارہویں ترمیم سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم سے متعلق جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد تفصیلی پالیسی بیان جاری کریں گے۔ایک سوال پر انوار الحق نے کہا کہ ہم نے یہاں پارٹی کا اعلان کیا ہے اب امید ہے کہ جوق در جوق شمولیتیں ہوں گی اس میں جو ارکان اسمبلی ہیں اور عوام یہ سلسلہ شمولیتوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی کی پریس کانفرنس میں بیٹھنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ یہ تاثر دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اس پارٹی کا حصہ ہوں گے۔ شمولیت کا اعلان کس موقع پر کرینگے یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ وہ ہوسکتا ہے کہ ہم ایک عوامی جلسے کا انعقاد کریں جس میں وہ شمولیت کا اعلان کریں۔
سیاسی وراثت سے متعلق سوال پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یہ ایک سوال مرکزی سیاست میں بھی اٹھ رہا ہے اور ہماری سیاست میں بھی اٹھ رہا ہے اگر کسی کا خیال ہے کہ کسی سیاسی گھرانے سے تعلق ہونا ڈی میرٹ ہے تو اپنی غلط فہمی دور کریں۔جو کردارسامنے آئے گا وہ ہمارے عمل سے سامنے آئے گا۔
پیغمرانہ اور سیاسی قیادت بھی نسلوں میں آئی ہے۔ نسل کوئی منفی عنصر نہیں۔ منفی عنصر عمل ہے اگر عمل کسی کا معیار کے مطابق نہیں ہوگا اس پر نکتہ چینی کا حق ہے۔ پیمانہ عمل ہونا چاہیے نسل نہیں۔ خاندانوں سے بھی لوگ اچھی سیاست کرسکتے ہیں اور عام لوگ بھی کبھی غلط سیاست کرسکتے ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جماعت کا الزام لگانے والے ان لوگوں کو زیب نہیں دیتی جو یہاں سینیٹ کے انتخابات میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو بھیجتے رہے، چیف سیکریٹری کو یہ درخواست کرتے رہے کہ ارکان اسمبلی سے رابطہ کریں۔
کاش یہ جمہوری لوگ اپنے صوبائی قیادت کو کہتے اور اپنی مرکزی قیادت کو لیکر آتے۔ اسٹیبلشمنٹ میں سول سرونٹس بھی آتے ہیں۔ہمیں نہیں پتہ کہ سول سرونٹس کب سے اسٹیبلشمنٹ سے الگ ہوئے ہیں۔
جہاں تک الزامات کا تعلق ہے ہم تلخ بات نہیں کرنا چاہتے اور کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتے لیکن 2013ء کے عام انتخابات سے متعلق الزامات لگانے والے ان جماعتوں سے متعلق لوگوں کی آراء زبان زد عام ہیں۔ ہم کچھ نہ کہیں تو بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کی سیاسی ایلیٹ اور عوام ان کی پارٹنر شپ ہے۔اس میں ان دو طبقوں کا امتزاج دیکھنے کو ملے گا۔ کون کون شامل ہورہا ہے سب کچھ جلد سامنے آجائے گا۔
عبوری کونسل اسی لئے تشکیل دی ہے جنرل کونسل کا اجلاس بلائے جس میں ایک مہینے کے اندر جمہوری طریقہ کار کے تحت عہدے داروں کا انتخاب کیا جائیگا۔
امید ہے کہ آئندہ انتخابات میں ہمیں صوبائی اسمبلی کی پندرہ سے بیس نشستیں ملیں گی۔سینیٹر کہدہ بابر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں ساٹھ فیصد بات ہی گوادر اور سی پیک سے متعلق ہوتی ہے۔
اس جماعت میں صرف روایتی لوگ شامل نہیں جس پارٹی نے میرے جسے شخص کو گوادر کی ترجمانی کیلئے سینیٹ میں بھیجا گیا ہے وہ روایتی کسی صورت نہیں ہوسکتی۔
انشاء اللہ بلوچ قوم اور گوادر کے لوگوں کو امید ہے کہ وہ آگے چل کر اس پلیٹ فارم سے مؤثر آواز اٹھاسکیں گے اور سی پیک سے متعلق ہمارے تحفظات اسی جماعت کے ذریعے ہی دور ہوسکیں گے۔
ہم یہ جانا چاہتے ہیں کہ سی پیک کی پالیسی ہمیں بھی بتائی جائے کہ بلوچستان کے لوگوں میں کیا رکھی گئی ہے۔
صحافی کی جانب سے یہ تاثر دیے جانے کے بعد کہ یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے تحت بنی تو پارٹی کے صوبائی ترجمان شعیب نوشیروانی نے ے سوال پوچھنے والے سے استفسار کیا کہ ’’کیا انڈیا کی سٹیمبلشمنٹ؟، میں تو ڈر ہی گیا تھا۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ اس پارٹی کا منشور اور نعرہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ اسی کو بنیاد بناکر ہم آگے بڑھیں گے۔
جب ان سے کہا گیا کہ ایسا ہی نعرہ سابق صدر پرویز مشرف نے بھی لگایا تھا تو پرویز مشرف دور میں وزیرداخلہ بلوچستان رہنے والے شعیب نوشیروانے کہا کہ یہ مشرف سمیت سب کا نعرہ ہے ،کسی ایک شخص کا نہیں ۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بائیس کروڑ لوگوں کا یہی نعرہ ہے۔