کوئٹہ: سی پیک میں تیسرے اسٹرٹیجک پارٹنر اور پاکستان کے اہم اتحادی سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد گوادر پہنچ گیا۔
وفد کی سربراہی سعودی مشیر برائے توانائی ، صنعت اور معدنیات احمدحمد الغامدی کر رہے ہیں ۔ سعودی عرب کے 6رکنی وفد میں مختلف شعبوں کے ماہرین اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں جنہوں نے گوادر بندر گارہ ، کارواٹ ڈی سیلینیشن پلانٹ اور گوادر فری زون کا دورہ کیا اور گوادر بندرگاہ کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا ۔
بعد ازاں سعودی عرب کے وفد نے گوادر بندر گاہ اور سی پیک سے متعلق ایک بریفنگ میں بھی شرکت کی اس موقع پر چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی دوستین جمالدینی اور ادارہ ترقیات گوادر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سجاد حسین نے سعودی وفد کو تفصیلی بریفنگ دی ۔
بریفنگ میں ان شعبوں کی نشاندہی کی جس میں سعودی عرب سرمایہ کاری کرسکتا ہے ۔وفد کو بتایا گیا کہ گوادر میں سی پیک پراجیکٹ کے تحت 80ہزار ایکڑ پر میگا آئل سٹی تعمیر کیا جائیگا جس کے ذریعے گوادر سے چین تک درآمد شدہ تیل بجھوایا جائیگا ۔ یہ تیل خلیجی ممالک سے درآمد کیا جائیگا اور گوادر آئل سٹی میں ذخیرہ کیا جائیگا۔ یہ چین تک تیل پہنچانے کا مختصر ترین راستہ ہوگا۔
گوادر میں دنیا کی بڑی آئل ریفائنریز میں سے ایک ریفائنری بھی لگائی جائیگی جس سے پاکستان اور چین سمیت وسط ایشیائی ممالک کے تیل کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا ۔پاکستانی حکام نے وفد کو بتایا کہ آئل سٹی سمیت گوادر اورسی پیک پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔
بلوچستان میں موٹرویز اور ریلوے نیٹ ورک کی نئی تعمیرات میں سعودی کمپنیوں سرمایہ کاری کرسکتی ہیں۔بریفنگ میں ان شعبوں کی خاص طور پر نشاندہی بھی کی گئی جس میں سعودی عرب کی سرمایا کاری ہو سکتی ہے۔ سعودی وفد کو علاقے میں سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں اور سیکیورٹی کے انتظامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
سعودی وفد نے گوادر میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی او ریہاں دستیاب سہولتوں اور سیکیورٹی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اورپاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کی یقین دہانی کروائی۔سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تاریخی مذہبی اور برادرانہ تعلقات ہیں ہرمشکل وقت میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی تھی ۔ وزیراعظم نے سعودی حکام کو سی پیک میں تیسرا فریق بننے اور سرمایا کاری کی دعوت دی تھی جسے سعودی حکام نے قبول کیا تھا اور سعودی وفد کا یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی بتائی جاتی ہے۔سعودی عرب نے اپنے دورے کے دوران مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کا جائزہ لیا ۔
سعودی عرب کے وفد کا دورہ گوادر ، سی پیک منصوبوں میں اظہار دلچسپی، وفد کو سیکورٹی سمیت سرمایہ کاروں کو سہولیات بارے بریفنگ
![]()
وقتِ اشاعت : October 3 – 2018