
ملک میں سیاسی و معاشی استحکام اندرون خانہ استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔
ملک میں سیاسی و معاشی استحکام اندرون خانہ استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔
پی آئی اے کی خریداری کے لیے سرمایہ کارو ں کے تقاضے پر بیوروکریٹک پیچیدگیوں کی وجہ سے حکومت ائیرلائنز کی فروخت کے حوالے سے آئی ایم ایف سے 26 ارب روپے ٹیکس چھوٹ مانگے گی۔
کچھی کینال منصوبہ سے بلوچستان میں زرعی انقلاب آئے گا، یہ ایک دیرینہ منصوبہ ہے جس کی تکمیل کیلئے نواز شریف کی گزشتہ حکومت نے سنجیدہ اقدامات اٹھائے تھے جس کا مقصد بلوچستان کے لوگوں کو اس کا معاشی فائدہ پہنچانا تھا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک تاجر کے 9 سالہ بیٹے مصور خان کے اغوا کے خلاف منگل کو شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن کیا گیااور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اس وقت پارٹی کی مکمل قیادت کر رہی ہیں، انہوں نے پشاور میں پارٹی اجلاس سے خطاب بھی کیا ہے۔
ملک میں ٹیکس وصولی کا مسئلہ سب سے اہم ہے جس پر آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار ٹیکس کے اہداف پورے کرنے ،اخراجات میں کمی، شعبوں کی نجکاری پرزور دیا جارہا ہے۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں حالات غیر معمولی ہیں سب سے بڑا چیلنج امن و امان کا ہے جو دہائیوں سے چلتا آرہا ہے۔
بلوچستان سے منسلک سرحدوں پر ٹریڈ کی بندش کا مسئلہ اب تک حل نہیں ہوسکا ،بارڈر بندش کے باعث سرحدی علاقوں کے تاجرا ور عوام معاشی طور پر بری طرح متاثر ہیں چونکہ پاک ایران سرحدی علاقوں کے لوگوں کا ذریعہ معاش ایرانی تیل سمیت دیگر اشیاء سے جڑی ہے اس کے علاوہ یہاں کوئی اورروزگار کا ذریعہ نہیں۔
پاکستان اس وقت ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسئلے سے دوچار ہے خاص کر بڑے شہر لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ سمیت دیگراس مسئلے کا شکارہیں۔
آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ نے اتفاق کیا ہے کہ منی بجٹ نہیں آئے گا، ٹیکس ہدف 12 ہزار 970 ارب برقرار رہے گا اور پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس بھی نہیں لگایا جائے گا۔