آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں انتخابی مہم کے دوران ملک کی تین بڑی جماعتیں اپنی جیت کا دعویٰ کررہی ہیں اور اس انتخابی مہم کے جلسوں میں ایک دوسرے پر بھرپورتنقید کررہے ہیں، حسب روایت ملکی انتخابات کی طرح کرپشن سمیت نجی معاملات کو بھی درمیان میں گھسیٹاجارہا ہے جوہماری سیاست کا اب کلچر بن چکا ہے جس کے منفی اثرات سیاست پر تو پڑرہے ہیں مگر ساتھ ہی سیاسی ورکرز سے لے کر عام لوگوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد اس سے براہ راست متاثر ہوکر سوشل میڈیا پر اس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے دکھائی دے رہی ہے ۔
پاک افغان تعلقات میں بہتری اس نازک وقت میں انتہائی ضروری ہیں کیونکہ افغانستان میں اس وقت معاملات بہت تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں جس کا بارہا اشارہ دیاجا چکا ہے کہ امریکی اور نیٹوافواج کی انخلاء کے بعد کا افغانستان کا نقشہ مکمل بدل جائے گا اور یہی ہورہا ہے کہ کس طرح سے فریقین ایک دوسرے کے مدِمقابل لڑرہے ہیں۔
کوئٹہ شہر بلوچستان کا دارالحکومت ہے اور اس کے قدیم علاقے عرصہ دراز سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں خاص کر سڑک، سیوریج، پانی، اسپتال جیسے مسائل کا سامنا عوام کوہے ۔جب گزشتہ حکومت نے کوئٹہ پیکج کا اعلان کیا کہ شہر میں پُل، انڈرپاسز سمیت دیگر بنیادی سہولیات اس پیکج میں شامل ہیں انہیں حکومتی مدت میں پورا کیاجائے گا تو ایک امید کوئٹہ کے شہریوں میںجاگ اٹھی تھی کہ دہائیوں سے جس کرب وعذاب سے وہ گزررہے ہیں ان کا ازالہ جلد کیاجائے گا۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران عالمی وبا کورونا وائرس سے مزید 31 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد ملک میں کورونا سے مجموعی اموات 22 ہزار 720 ہوگئیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری تازہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 2 ہزار327 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ملک میں کورونا کیسز کی تعداد 9 لاکھ 83 ہزار719 ہوگئی۔
وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 40 پیسے کا اضافہ کر دیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری پیغام میں بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے اوگرا سفارشات کے برعکس عوامی مفاد میں پٹرول کی قیمت میں محض 5.40 روپے فی لیٹر اضافے کی منظوری دی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 2.54 روپے فی لیٹر، کیروسین کی قیمت میں 1.39 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 1.27 روپے فی لیٹر کی اجازت دی گئی ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے کوئٹہ اورتربت میں ڈیلٹا وائرس کی تصدیق کردی گئی ہے،21 سیمپلز اسلام آباد بھجوائے گئے جن میں کوئٹہ کے 11 اور تربت کے 5 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔اسلام آباد سے آنے والی رپورٹ میں بھارتی وائرس ڈیلٹا کی نشاندہی ہوئی ہے،محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مکران ڈویژن میں زیادہ لوگ مڈل ایسٹ سے آتے ہیں،مکران اور کوئٹہ کے لوگوں کی کراچی آمدورفت زیادہ ہے جس سے یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ناراض بلوچوں سے مذاکرات کی بات کے بعد بلوچستان کے سیاسی ومعاشی حالات پرملک بھر میں ایک نئی بحث جاری ہے خاص کر میڈیا پر سیاستدان اور مبصرین اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ ماضی سے لیکر حال تک کی صورتحال پر بات کی جارہی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کس طرح حل ہوسکتا ہے اور بلوچستان جودہائیوں سے پسماندگی اور محرومیوں کا شکار ہے انہیں دور کرکے خوشحال بلوچستان کے خواب کو حقیقی جامہ پہنایاجائے۔
مشیر برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو پاکستان افغان مہاجرین کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔غیرملکی ذرائع ابلاغ کو انٹرویودیتے ہوئے ڈاکٹرمعید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مذاکرات کی راہ ہموار کی لیکن کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ طالبان پر کبھی ہمارا کنٹرول تھا اور نہ اب ہے۔ اگر کسی کیمپ میں شامل ہونے کا دباؤ آیا تو پاکستان کا فیصلہ سب کو پتہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے عسکریت پسند بلوچوں سے بات چیت کے اعلان کے بعد ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے تاہم نوابزادہ شاہ بگٹی کو معاون خصوصی کا عہدہ دے کر ناراض بلوچوں سے بات چیت کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ وہ اس عمل کو آگے بڑھاسکیں۔ ابھی چند روز ہی نہیں گزرے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے اسے مختلف تناظر میں دیکھا جارہا ہے بہرحال وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جن لوگوں کے تعلقات بھارت کے ساتھ ہیں ان سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔
کوروناوائرس کی چوتھری لہر کے خطرات کے پیش نظر حکومتی سطح پر زیادہ اقدامات ہونے چاہئیں۔ فوری پابندیوں کا اطلاق لوگوں کومزید مشکلات میں مبتلا کردینے کے مترادف ہے ۔عیدالضحیٰ سر پر ہے اور اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانور خریدنے کیلئے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے ہیں،اس حوالے سے پیشگی بتایاگیا تھا کہ ایس اوپیز پر عملدرآمدکرانا حکومت اورضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے جبکہ مال مویشی فروخت کرنے والوں کیلئے یہ سب سے بڑا کاروبار کا سیزن ہوتا ہے اگر اس دوران سختی برتی گئی تو بڑے پیمانے پر چھوٹے کاروباری طبقے کو نقصان پہنچے گا.