امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی بڑھتی جارہی ہے جبکہ سعودی عرب اور ایران بھی مدِ مقابل دکھائی دیتے ہیں۔یہ بڑھتی کشیدگی خطے اور دنیا کیلئے جہاں خطرناک ثابت ہوسکتی ہے وہیں پاکستان بھی اس جنگ سے شدید متاثر ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران حکومت اورمسلح افواج کے سربراہ نے مختلف ممالک کے دورے کئے تاکہ دونوں مسلم ممالک کے درمیان جنگی ماحول میں کمی آئے کیونکہ اس کے انتہائی بھیانک اثرات پورے خطے پر پڑینگے جبکہ پاکستان براہ راست اس سے متاثر ہوگا۔بہرحال موجودہ کشیدگی پر گزشتہ روز پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح کردیا کہ خطے میں امن خراب کرنے والے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے۔
ملک میں معاشی ابترصورتحال سے لیکر بیڈگورننس، سیاسی مصلحت پسندی، مفاد پرستی، سیاسی بلیک میلنگ سمیت تمام غلط اقدامات کو ہر حکومت گزشتہ حکومتوں پر تھوپتی رہی ہے اور یہ ہماری سیاسی روایت کا حصہ بن گیا ہے۔ موجودہ حکومت بھی اس بات کو ماننے سے انکاری ہے کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں میں موجودہ حکومت کے بعض اراکین بھی شامل تھے چونکہ یہاں سیاسی مفادات آڑے آتے ہیں جو کہ حکومت کیلئے نیک شگون ثابت نہیں ہوتا۔ حالیہ ایک مثال ہی لی جائے جب متحدہ قومی موومنٹ کو پیپلزپارٹی نے سندھ میں حکومت میں شامل کرنے کی پیشکش کی تو پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت متحدہ قومی موومنٹ کو منانے کیلئے پہنچ گئی حالانکہ ایم کیوایم نے فوری طور پر حکومت میں شمولیت کی حامی بھی نہیں بھری، وہی پرانے مطالبات سامنے رکھ دیئے کہ مقامی حکومتوں کو بہتر بنایا جائے یعنی کراچی سمیت دیگر شہر جہاں پر ایم کیوایم کی اکثریت ہے وہاں پر اسے مکمل اختیارات دئیے جائیں، ویسے ایم کیوایم کی ہمیشہ کراچی پر سیاسی کنٹرول کی خواہش رہی ہے اور یہ پوری بھی کی گئی مشرف سے لیکر پیپلزپارٹی نے سابقہ دور میں کراچی کو ایم کیوایم کے حوالے کردیا تھا۔ بہرحال سابقہ ایم کیوایم اور موجودہ ایم کیو ایم میں آج کل بہت تمیز پیدا کی جارہی ہے۔
پاکستان نے عراق میں امریکی حملے میں ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کے جاں بحق ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ خودمختاری کا احترام اور علاقائی سالمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ان اصولوں کی پاسداری کی جانی چاہیے۔پاکستان نے یکطرفہ اقدامات اور طاقت کے استعمال سے گریز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے کے لیے مثبت رابطوں کی ضرورت ہے۔
کوئٹہ ترقیاتی پیکج جس میں 15ارب روپے کے گیارہ منصوبے شامل ہیں، پیکچ کے لئے پانچ ارب روپے سابق وزیراعظم، پانچ ارب روپے سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے اعلان کردہ ہیں جبکہ پانچ ارب روپے صوبائی پی ایس ڈی پی میں مختص کئے گئے ہیں۔علاوہ ازیں دس ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ ایکسپریس وے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے جس کے لئے پانچ ارب روپے وفاقی حکومت اور پانچ ارب روپے صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ پانچ منصوبوں جن میں سریاب روڈ کی توسیع، سریاب کے علاقے میں 120کلومیٹر گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر، جوائنٹ روڈ کی توسیع، سبزل روڈ کی توسیع اور ایئر پورٹ نواں کلی لنک روڈ کی تعمیر شامل ہے،پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ گوالمنڈی چوک کی توسیع، جی پی او چوک پر مجوزہ بائی پاس یا فلائی اوور کی تعمیر، جوائنٹ روڈ کی توسیع کے فیز ٹو، شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب اور ریلوے اسٹیشن پر فوڈ سٹریٹ کے قیام کے منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جانا ہے۔
نیشنل ہائی ویز موٹروے پولیس کی جانب سے ایک روڈ سیفٹی سیمینارکے دوران نیشنل ہائی ویز موٹروے پولیس کے حکام نے اپنے خطاب کے دوران اس بات کا خود اعتراف کیاکہ ہر سال بلو چستان میں 6000 کے قریب لوگ حادثات کی نذر ہوجاتے ہیں اور مزید لوگ جو کہ بعد میں علاج کے دوران مر جاتے ہیں ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت اس سال 2019 میں روڈحادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں 20 فیصد تک اضافہ بھی ہوا ہے۔موٹروے پولیس حکام نے ٹرانسپورٹر ز کو گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے ترمیم شدہ رقم یعنی چالان کے نئے جرمانوں کے بارے میں بریف کیا۔
پاکستان میں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح نئے سال 2020 کا جوش وخروش سے استقبال کیاگیا،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، کراچی، لاہور، راولپنڈی، ملتان، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ عبادات کا بھی اہتمام کیا گیا،ملکی سلامتی،خوشحالی وترقی کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔
سال 2019ء میں بھی عوام نے کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی البتہ موجودہ حکومت کا نعرہ ہی تبدیلی کا تھا جس میں بہتر معیشت، غریب عوام کو گھر، ملازمتیں سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا۔سب سے اہم بات ملک کو کرپشن سے پاک کرکے بڑے مگرمچھوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے سمیت بیرونی ممالک سے پیسے واپس قومی خزانے میں لانا تھا مگر اس پورے دورانیہ میں ایک بھی وعدہ پورا نہ ہوسکا البتہ سیاسی ماحول میں کافی گرما گرمی دیکھنے کو ملی جہاں بڑی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں وہیں اس عمل کو سیاسی انتقامی کارروائیوں سے نتھی کیا گیا۔ مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں کو کرپشن کیسز میں گرفتار کیا گیا جبکہ پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری اور خورشید شاہ بھی کرپشن کے الزامات میں گرفتار ہوئے۔ اس دوران سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف زیادہ خبروں میں رہے جن کی صحت کی خرابی ایک بڑا مسئلہ بن چکا تھا، پلیٹ لیٹس کی کمی اور جان کے خطرہ کے پیش نظر انہیں بیرون ملک بھیجا گیا جس پر خوب سیاست کی گئی،ایک طرف اسے این آراو قرار دیاجارہا تھا تودوسری جانب نواز شریف کی بیماری کو بہانہ قرار دیکر ملک سے فرار ہونے کی باتیں کی گئیں۔
بھارت میں شہریت کا متنازع بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کیا گیا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دے دی۔بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔تارکین وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان زیریں (لوک سبھا) میں 12 گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں بھی اس متنازع بل کو کثرت رائے سے منظور کیا جاچکا ہے۔متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد باقاعدہ قانون کا حصہ بن گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی ہے۔نیپرا کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافے سے صارفین پر 14 ارب 50 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔نیپرا کا کہنا ہے کہ اضافہ اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے جس میں پانی سے 25.48 فیصد بجلی پیدا کی گئی، مقامی گیس سے 12.17 فیصد، درآمدی ایل این جی سے 25.41 فیصد بجلی پیدا کی گئی جبکہ اکتوبر میں ہائی سپیڈ ڈیزل سے بجلی پیدا نہیں کی گئی۔نیپرا حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنیوں کی نقصانات کے حوالے سے کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔چیئرمین نیپرا کا کہنا ہے کہ جتنا زوربجلی پیداکرنے پرلگایا گیااتنا اس کی ترسیل پہ لگاتے تومسائل نہ ہوتے، کے الیکڑک پلانٹ لگارہاہے مگراین ٹی ڈی سی بجلی کی ترسیل کا معاہدہ کرنے کو تیار نہیں۔
بلوچستان کے عوام کو امید لگی رہتی ہے کہ شاید ہر نیاسال ان کیلئے کچھ بہتر ہی ثابت ہوگا،ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہوگا اور حکمران ان کے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھائینگے مگر گزشتہ ستر سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بلوچستان میں کسی ایک شعبہ کی مثال نہیں دی جاسکتی کہ اس میں بہتری آئی ہے جو خواب بلوچستان کے غریب عوام کو دکھائے جاتے ہیں وہ محض دعوے ہی ثابت ہوتے ہیں اور یوں اس طرح دیوانے کے خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔ بلوچستان میں جب نئی حکومت کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا سلوگن ہی تبدیلی کا تھا اور اس کا اظہار خود حکومتی جماعت کے سینئر اراکین ہر فورم پر کرتے دکھائی دیتے تھے کہ بلوچستان کے ساتھ ہونے والی تمام زیادتیوں کا نہ صرف ازالہ کیاجائے گا بلکہ مرکز سے ہونے والی مداخلت بھی ختم کردی جائے گی بلکہ یہاں کے منتخب نمائندگان بلوچستان کے وسیع ترمفاد میں عوامی خواہشات کے مطابق خود فیصلے کرینگے۔