ملکی معیشت میں استحکام آرہا ہے مگر ساتھ ہی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جارہا ہے۔
ملکی معیشت میں استحکام آرہا ہے مگر ساتھ ہی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جارہا ہے۔
ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب بڑا جبکہ آبادی کے حوالے سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔
بلوچستان میں گورننس کے ذریعے بہت سارے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے خاص کر عوام حکومت سے بنیادی سہولیات اور ریلیف کی امید اور توقع رکھتے ہیں۔
بلوچستان میں قیام امن کیلئے تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات کی بات کررہی ہیں تاکہ بلوچستان میں بدامنی کی نئی لہر کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور صوبے میں دیرپا اور مستقل امن قائم ہوسکے ۔
ملک میں معمول سے 40 فیصد کم بارشوں کے باعث خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے، پانی بحران سے فصلیں متاثرہ ہونے کا خدشہ ہے۔
بلوچستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے یقینا غیر معمولی حالات ہیں، بدامنی سے بلوچستان بہت زیادہ متاثر ہے مگر اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا ضروری ہے جس میں وفاق، بلوچستان حکومت، بلوچستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی، قبائلی عمائدین سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا شامل ہونا ضروری ہے، گرینڈ ڈائیلاگ کیلئے بیٹھک لگانے کی اشد ضرورت ہے جس میں سب اپنی تجاویز اور رائے پیش کریں کہ قیام امن کی بحالی کو کس طرح سے ممکن بنایا جاسکتا ہے جبکہ بلوچستان میں موجود دیگر مسائل کا حل بھی نکالا جائے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں بسنے والے لاکھوں افغان باشندوں کو مرحلہ وار ان کے ملک واپس بھیجنے سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایات رواں ماہ کے دوران جاری کردی گئیں تھیں اور انھیں اس ضمن میں ضروری اقدامات کرنے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری منظور کرلی۔
ملک میں اس وقت سب سے اہم بحث اور بڑا مسئلہ بلوچستان میں قیام امن کا ہے ۔
بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہے اس وقت بلوچستان میں سب سے بڑا اور اہم چیلنج قیام امن کا ہے جس پر وفاق اور صوبائی حکومت کی مکمل توجہ ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں جس میں صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ بلوچستان میں عام لوگوں کی ترقی اورخوشحالی بھی شامل ہے اس حوالے سے متعدد منصوبوں کا آغاز بھی کیا گیا ہے،