گزشتہ پندرہ سالوں سے سیندک پروجیکٹ کی صورت میں بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار جاری ہے۔ بلوچستان کے عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ بلوچستا ن کو صرف ڈھائی فیصد کی رائلٹی پرٹرخا دیا گیا۔
گزشتہ پندرہ سالوں سے سیندک پروجیکٹ کی صورت میں بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار جاری ہے۔ بلوچستان کے عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ بلوچستا ن کو صرف ڈھائی فیصد کی رائلٹی پرٹرخا دیا گیا۔
بلوچستان کے لوگوں کی معیشت کادارومدار اسمگلنگ پر ہے، صنعتی اشیاء اسمگل ہوکر بلوچستان آتی ہیں جس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اور نہ ہی اسمگلرز اور دکاندار ریاست کو کسی قسم کا ٹیکس ادا کرتے ہیں، اس لئے ریاست کی آمدنی بلوچستان میں منجمد ہوکر رہ گئی ہے۔
بلوچی اکیڈمی ایک منفرد قومی ادارہ ہے جو بلوچی زبان اور بلوچی کلچر کے لیے بھر پور خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ ادارہ چند معروف اور مستند دانشوروں ‘ شاعر اور ادیبوں نے 1950 کی دہائی میں قائم کیاتھا۔ مالی اور دیگر مشکلات کے باوجود بلوچی اکیڈمی نے بلوچی زبان کی ترویج میں زبردست کردار ادا کیا۔اب تک اس ادارہ نے سینکڑوں کتابیں شائع کیں۔
گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں ناکارہ بحری جہازوں کی کٹائی پر عائدپابندی ہٹالی گئی، آج سے گڈانی کے پلاٹ نمبر 9اور10کے علاوہ باقی تمام پلاٹوں پر ناکارہ بحری جہازوں کی کٹائی سمیت ہر قسم کا کام شروع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ۔
گزشتہ حکومت نے حکومت نے یہ فیصلہ کیاتھاکہ عنایت کا ریز ، قلعہ عبداللہ کو بھی قدرتی گیس کی سہولت فراہم کی جائے گی جسے ہرسطح پر سراہا گیا کیونکہ دہائیوں بعد پہلی بار بلوچستان کے کسی قصبے کو قدرتی گیس سپلائی کرنے کااعلان کیا گیا۔
پولیس ریفارمز، کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ، لیویزفورس کی تنظیم نو،قومی شاہراہوں کی تعمیر، بلوچستان انسٹی آف کارڈیالوجی اور کینسر ہسپتال کی تعمیر کے منصوبوں اور بلوچستان کے سمندری حدو د میں غیرقانونی ٹرالنگ کی روک تھام سمیت منصوبوں کی سیکیورٹی سے متعلق امور کا گزشتہ روز اجلاس کے دوران جائزہ لیا گیا۔
کوئٹہ بلوچستان کا دارالخلافہ ہے مگر یہ شہر روز بروز مسائل سے دوچار ہوتا جارہا ہے، کوئٹہ کے شہر ی گیس، سیوریج ، صفائی، سڑکوں سمیت اہم بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔
بلوچستان میں غربت کی شرح 80 فیصد سے زائد ہے جبکہ گوادر، لسبیلہ، کیچ اور پنجگور میں غربت کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے جس کی بناء پر ان کا شمار شدید غربت سے متاثرہ اضلاع میں ہوتا ہے ۔
بلوچستان میں گزشتہ کئی دہائیوں کے بعد بی این پی مینگل واحد ایک بڑی قوم پرست جماعت بن کر سامنے آئی ہے جس کا ثبوت عام اور ضمنی انتخابات میں اس کی کامیابی ہے۔
بلوچستان میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ سے لے کر قلات تک گیس کی لوڈشیڈنگ بھرپور انداز میں شروع کی جاتی ہے۔ کوئٹہ اور قلات کے علاوہ مستونگ اور زیارت میں بھی گیس پریشر کم ہوجاتی ہے یا پھر اس کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیاجاتا ہے۔اس لوڈشیڈنگ کو اگر مردم آزاری سے تعبیر کی جائے توکچھ غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ملک کے سرد ترین علاقے ہیں جہاں زندہ رہنے کے لئے گیس یا کسی قسم کے ایندھن کا ہونا ضروری ہے۔