نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو 13 دسمبر کی رات ساڑھے گیارہ بجے کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغواء کیا جب وہ اپنے گھر جارہے تھے۔ 6 دن گزرنے کے باوجود انہیں بازیاب نہیں کرایاجاسکا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سراغ ملا ۔
نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو 13 دسمبر کی رات ساڑھے گیارہ بجے کوئٹہ کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت اغواء کیا جب وہ اپنے گھر جارہے تھے۔ 6 دن گزرنے کے باوجود انہیں بازیاب نہیں کرایاجاسکا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سراغ ملا ۔
افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں افغان طالبان کے نمائندے پیر کو متحدہ عرب امارات میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد سے ملاقات کر رہے ہیں۔اگرچہ اس ملاقات میں افغان حکومت کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تاہم پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔
کراچی میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے جس میں خاص کر تجارتی مراکز میں جو تجاوزات غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے ان کا مکمل صفایا کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی قبضہ مافیا جنہوں نے غیر قانونی طور پر زمینوں پر قبضہ جمائے رکھاتھا ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے مگر دوسری جانب کوئٹہ جہاں تجاوزات کی بھرمار ہے، اہم تجارتی مراکز غیر قانونی تجاوزات سے بھرے پڑے ہیں۔
تعلیمی ایکٹ 2018 ء کے بعد اساتذہ نے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے البتہ اس ایکٹ کو ابھی تک اسمبلی سے منظور نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر مفصل بحث ہونا ہے جس پر اپوزیشن بھی اپنا مؤقف پیش کرے گی۔ اساتذہ کو دنیا کے ہر معاشرہ میں اعلیٰ مقام اور عزت دی جاتی ہے۔
سپریم کورٹ نے بلوچستان میں پینے کے پانی کی صورتحال پر کمیشن قائم کرکے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے علاقے بھاگ ناڑی میں پانی کے بحران سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
حکومت بلوچستان نے صوبہ میں محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور بہتری کیلئے تعلیمی ایکٹ 2018 متعارف کرانے کافیصلہ کیا ہے، ایکٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے ہڑتال، احتجاج، بائیکاٹ کرنے والوں کو ایک سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ اساتذہ کو اکسانے اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کو 6ماہ قید 3لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا یادونوں سزائیں بیک وقت لاگو ہوسکتی ہیں۔
ملکی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی حکومت رہی ہو جس نے قرض نہ لیا ہو، اپوزیشن میں بیٹھ کر تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت وقت کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا، یہ ہماری سیاسی روایات رہی ہیں۔حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھ کر ہم نے کبھی بھی ملکی معیشت کو بہترکرنے کیلئے معاشی ماہرین سے استفادہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کو اس قابل سمجھا کہ وہ ملک میں معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے منصوبہ بندی کریں۔
کسی بھی ملک کی معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے امن اولین شرط ہے ،ہمارے ہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک جنگی ماحول رہا ہے جس سے صرف افغانستان متاثر نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے برائے راست پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جو یہاں کے عوام کوکوئی ریلیف فراہم کر رہا ہو۔بلوچستان کے ساتھ ناروا طرز حکمرانی کی طویل داستان ہے،یہاں کے و سائل کے سوا وفاق اور وفاقی ادارروں کی دلچسپی کامرکز بلوچستان کبھی رہا ہی نہیں ، یہاں کے وسائل سے وفاق برائے راست فائدہ اٹھارہاہے لیکن یہاں کے لوگ کس حال میں جی رہے ہیں یا مر رہے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔
ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے (تاپی) پر کام آئندہ برس کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہو کر اگلے ڈھائی سال میں مکمل ہو جائے گا۔یہ بات اسلام آباد میں جمعہ کو منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شامل مقررین نے کہی جس کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز نے کیا تھا۔