سی پیک میں تیسرے اسٹرٹیجک پارٹنر اور پاکستان کے اہم اتحادی سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی سرکاری وفدنے گزشتہ روز گوادر کا دورہ کیا، وفد کی سربراہی سعودی مشیر برائے توانائی، صنعت اور معدنیات احمد الغامدی نے کی۔
سی پیک میں تیسرے اسٹرٹیجک پارٹنر اور پاکستان کے اہم اتحادی سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی سرکاری وفدنے گزشتہ روز گوادر کا دورہ کیا، وفد کی سربراہی سعودی مشیر برائے توانائی، صنعت اور معدنیات احمد الغامدی نے کی۔
بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں طویل عرصہ سے ایک ہی طبقہ حکمرانی کرتا آرہا ہے مگر اس بات کی ذمہ داری آج تک کسی نے اپنے سر نہیں لی کہ اس سرزمین کی پسماندگی کے ذمہ دار ہم ہیں، حکومتیں بدلتی گئیں مگر چہرے نہیں بدلے۔
بلوچستان میں خشک سالی اور زیرزمین پانی کی سطح گرنے سے قلت آب کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتاجارہا ہے۔ بلوچستان میں نصف صدی قبل کاریز اور چشموں کا پانی دور تک بہتا دکھائی دیتا تھا اور 20 سے 25 فٹ کے فاصلے پر کنوؤں کی کھدائی پر پانی نکل آتا تھا۔
کوئٹہ کے شہری ماس ٹرانزٹ کی سہولت سے محروم ہیں یوں لوگوں کو دہائیوں پرانی بسوں اور رکشوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے حالانکہ یہاں ریلوے کا بہتر نظام موجود ہے جس نے عوام کی ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک خدمت کی ہے۔
نیویارک میں ایشیا سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ سی پیک ہمارے مفاد میں ہے اور سی پیک کے تحت جاری منصوبے مکمل کریں گے۔
بلوچستان وسائل کے لحاظ سے مالامال خطہ ہے مگر اس کے لوگ انتہائی غریب ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں، دیہی علاقوں میں رہنے والی پوری آبادی کو کسی قسم کی سہولیات حاصل نہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے جن غیرمعیاری ترقیاتی منصوبوں کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیاگیاجبکہ متعلقہ محکموں کو انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سریاب کے مکین آج کے جدید دور میں بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں ۔اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی کہ صوبائی دارالحکومت کی سب سے بڑی کچھی آبادی کو شہری سہولیات کیسے فراہم کی جائیں گی ۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت گزشتہ روز نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے پہلے اجلاس کے دوران نیکٹا کے بطور ادارہ کردار اور کام سے متعلق جائزہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
بلوچستان میں 1953ء میں قدرتی گیس ،سوئی کے مقام پر دریافت ہوئی تھی اس لئے اس کوسوئی گیس کانام دیا گیاجس کے بعد پیرکوہ، لوٹی اور اوچ میں بھی قدرتی گیس دریافت ہوئی، یہ بگٹی قبائلی علاقے میں واقع ہیں۔