گوادر پورٹ فعال ہونے سے ملکی خزانہ کو 10 ارب ڈالر سالانہ آمدن ہوسکتی ہے، 2006ء میں گوادر پورٹ میں مشرف دورحکومت میں تین برتھ بنائے گئے، گوادر اپنے محل وقوع اور گہرے سمندر کی وجہ سے خطے میں بڑا گیم چینجر ہے۔
گوادر پورٹ فعال ہونے سے ملکی خزانہ کو 10 ارب ڈالر سالانہ آمدن ہوسکتی ہے، 2006ء میں گوادر پورٹ میں مشرف دورحکومت میں تین برتھ بنائے گئے، گوادر اپنے محل وقوع اور گہرے سمندر کی وجہ سے خطے میں بڑا گیم چینجر ہے۔
پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت اور امن کی خواہش کے باوجود بھارت کی جانب سے پاکستان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔مذاکرات کی بحالی کی دعوت پر بھارت کا منفی اور متکبرانہ رویہ باعث افسوس ہے ۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہم منصب نریندر مودی کو ایک خط میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کرنے کی پیشکش کی ہے۔یہ نئی حکومت کی جانب سے پہلی بار بھارت کو دونوں ملکوں کے درمیان تمام تصفیہ طلب معاملات کے لیے باضابطہ مذاکرات کی دعوت ہے۔
وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں جومنی بجٹ پیش کیا ہے اس میں بعض ٹیکس رعایتیں دی گئی ہیں جبکہ بعض چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکس میں 100 ارب روپے کی کمی کررہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کراچی میں ایک تقریب کے دوران غیرملکی باشندوں کو شہریت دینے کی بات کی ۔اس حوالے سے وزیراعظم نے یہ دلیل پیش کی کہ ان مہاجرین کی تیسری نسل ہے جو پاکستان میں پیدا ہوئی ہے۔
عالمی بنک کے ماتحت ایک ٹریبونل نے ریکوڈک کے مسئلے پر کمپنی کے حق میں اور حکومت پاکستان کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ کاپر اور سونے کے کان ریکوڈک کو ابتداء سے ہی رشوت کمانے کا ذریعہ بنایا گیا ، پہلے تو بلوچستان حکومت کا ایک ادنیٰ افسر مکمل اختیارات کے ساتھ دہائیوں فوکل پرسن رہا۔کسی نے بھی ان معاہدوں کو پڑھا ہی نہیں جو کمپنی کے ساتھ کیے گئے۔
گزشتہ روزوزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ افغانستان کے دوران اپنے ہم منصب سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وفود کی سطح پر مذاکرات میں دو طرفہ امور ، علاقائی صورتحال اور افغان امن عمل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلوچستان لیویز فورس کی تشکیل نو کے ذریعہ اسے ایک پیشہ ورانہ اور متحرک فورس میں ڈھالنے کے لئے چار سالہ منصوبے کی اصولی طور پر منظوری دے دی گئی ہے جس پر لاگت کاتخمینہ آٹھ ارب روپے ہے جسے چار مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
پاکستان ابھی تک آر سی ڈی اور ای سی او کارکن ہے۔ ان تین بنیادی اور کلیدی ممالک میں پاکستان ‘ ایران اور ترکی شامل ہیں۔گزشتہ ساٹھ سالوں میں امریکا کی رہنمائی میں بغداد پیکٹ ‘ سیٹو اور بعد میں آر سی ڈی اور ای سی او بنا جن کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ ان ممالک کے درمیان تعلقات کو زیادہ فروغ دیا جائے اور ان کے درمیان تجارت ‘ باہمی رابطے ‘ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے پانی بحران کا سامناکررہا ہے جس کی وجوہات اس وقت یہ سمجھی جارہی تھیں کہ منصوبوں میں تاخیر ہے مگر حالیہ کرپشن کے انکشافات نے صوبہ کو بدنامی سے دوچار کردیا ہے۔